Fatwa Online

ورثاء میں بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ترکہ کی تقسیم کیا ہوگی؟

سوال نمبر:4819

السلام علیکم مفتی صاحب! میرے والد کا انتقال ہو چکا ہے، ورثاء میں ان کی بیوہ، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ دونوں بیٹیاں اور ایک بیٹا شادی شدہ ہیں۔ والد صاحب کے ترکہ میں‌ ایک مکان اور ایک دوکان تھی۔ دوکان سے جو کرایہ آتا ہے وہ ایک بھائی ہی اپنے پاس رکھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کرایہ قانونِ‌ وراثت کے مطابق تقسیم نہیں‌ ہوتا اس لیے میں‌ اس میں‌ سے کسی کو حصہ نہیں‌ دوں گا۔ براہِ‌ مہربانی وضاحت کر دیں‌ کہ اس کا ایسا کرنا درست ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: ثمرین آصف

  • مقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 21 اپریل 2018ء

موضوع:تقسیمِ وراثت

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

پھر اگر تمہاری کوئی اولاد ہو تو ان (بیواؤں) کے لئے تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے تمہاری اس (مال) کی نسبت کی ہوئی وصیت (پوری کرنے) یا (تمہارے) قرض کی ادائیگی کے بعد۔

النساء، 4: 12

اس حکمِ ربانی کے مطابق بیوہ کو کل ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ملے گا اور باقی جائیداد کے برابر چھ (6) حصے بنا کر دونوں بیٹوں کو دو دو حصے اور دونوں بیٹیوں کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔ اس میں شادی شدہ یا غیر شادی شدہ کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے۔

النساء، 4: 11

مرحوم کی وراثت میں جن حصہ داروں کا حق ہے وہ وراثتی مکان و دوکان کے کرایہ میں بھی حقدار ہیں۔ جب تک جائیداد تقسیم نہیں ہوتی اس سے ملنے والا کرایہ بھی اسی نسبت سے ورثاء میں تقسیم ہوگا جس نسبت سے وراثت میں ان کا حصہ ہے۔ جائیداد پر قبضہ کر کے دیگر حصے داروں کی حق تلفی کرنے والوں کے بارے میں قرآنِ کریم کا ارشاد ہے:

وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّاO وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاO

اور وراثت کا سارا مال سمیٹ کر (خود ہی) کھا جاتے ہو (اور حصہ داروں کو حصہ نہیں دیتے)۔ اور تم مال و دولت سے حد درجہ محبت رکھتے ہو۔

الْفَجْر، 89: 19-20

ان کا حال بروزِ قیامت یہ ہوگا:

يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيO

وہ کہے گا: اے کاش! میں نے اپنی (اس اصل) زندگی کے لئے (کچھ) آگے بھیج دیا ہوتا (جو آج میرے کام آتا)۔

الْفَجْر، 89: 24

اس لیے مذکورہ بھائی کو اللہ تعالیٰ کے فرمان سے آگاہ کریں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ سکے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 12 December, 2019 05:20:43 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/4819/