Fatwa Online

کیا صرف نہانے سے طہارت حاصل ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:4550

اگر مرد اپنی بیوی سے ہمبستری کے بعد غسل کرنےکی بجائےصرف نہالے تو کیا طہارت حاصل ہو جائےگی

سوال پوچھنے والے کا نام: فیاض خان

  • مقام: پاکپتن
  • تاریخ اشاعت: 27 نومبر 2017ء

موضوع:طہارت   |  غسل

جواب:

حالتِ جنابت سے پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے جو غسل کیا جاتا ہے اسے غسلِ جنابت کہتے ہیں۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نبی اکرم صلیٰ اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے غسل کرنے کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو پہلے دونوں ہاتھ دھوتے، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر استنجاء کرتے، اس کے بعد مکمل وضو کرتے، پھر پانی لے کر سر پر ڈالتے اور انگلیوں کی مدد سے بالوں کی جڑوں تک پانی پہنچاتے، پھر جب دیکھتے کہ سر صاف ہو گیا ہے تو تین مرتبہ سر پر پانی ڈالتے، پھر تمام بدن پر پانی ڈالتے اور پھر پاؤں دھو لیتے۔

مسلم، الصحيح، کتاب الحيض، باب صفة غسل الجنابة، 1 : 253، رقم : 316

اس لیے جب طہارت کے لیے غسل کیا جائے تو کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر پانی بہانا شرط ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی شرط رہ جائے تو انسان بدستور ناپاک رہتا ہے۔ غسلِ جنابت کا مسنون طریقہ جاننے کے لیے ملاحظہ کیجیے:

غسل کا مسنون اور مستحب طریقہ کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 22 January, 2021 11:27:51 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/4550/