Fatwa Online

کیا مورِث زندگی میں ہی جائیداد قانون وراثت کے مطابق تقسیم کرسکتا ہے؟

سوال نمبر:4187

السلام علیکم! میری غیرشادی شدہ پھوپھی ایک مکان کی مالکہ ہیں۔ وہ چاہتی ہیں کہ اپنی زندگی میں مکان فروخت کر کے اس سے حاصل ہونے والی رقم ورثاء میں تقسیم کر دیں۔ وہ الحمد اللہ مقروض نہیں ہیں اور انہوں‌ نے تجہیز و تکفین کی رقم پہلے سے امنانتاً رکھوادی ہے۔ والدین حیات نہیں ہیں۔ بہنیں چار تھیں جن میں سے تین کا انتقال ہوچکا، ایک حیات ہے جس کی ایک بیٹی ہے۔ دو بھائی تھے، دونوں کا انتقال ہوگیا ہے۔ بھائیوں کی اولاد کی میں‌: ایک بھائی کی تین بیٹیاں، 6 بیٹے (ان میں سے ایک بیٹا ایک بیٹی حیات ہے)۔ دوسرے بھائی کی 7 بیٹیاں دو بیٹے (تمام حیات ہیں)۔ شرعی حکم سے سرفراز فرمائیے۔ شکریہ

سوال پوچھنے والے کا نام: قاسم رشید فاروقی

  • مقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 22 اپریل 2017ء

موضوع:تقسیمِ وراثت

جواب:

وراثت کے احکام وصال کے بعد جاری ہوتے ہیں، اس لیے مذکورہ بی بی کی جائیداد اس کے وصال کے بعد موجود ورثاء میں قانونِ وراثت کے مطابق تقسیم ہو جائے گی۔ اپنی زندگی میں وہ خود تمام جائیداد کی مالک ہیں، جسے، جتنا چاہیں دے سکتی ہیں۔ ہماری دانست میں انہیں مکان ابھی اپنے پاس رکھنا چاہیے، ان کے وصال کے بعد ورثاء قانونِ وراثت کے مطابق اس کو تقسیم کر لیں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 07 December, 2019 06:12:50 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/4187/