Fatwa Online

ایک مکتبِ‌ فقہ کی تقلید کیوں‌ ضروری ہے؟

سوال نمبر:3802

السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ اہلِ سنت کے چار مکاتبِ فقہ ہیں جن میں‌ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی شامل ہیں۔ کیا ایک شخص کے لیے ان چاروں فقہ پر عمل کرنا جائز ہے یا پھر کسی ایک فقہ پر عمل کیا جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو ایک فقہ کی پابندی کیوں‌ کی جائے؟ براہِ مہربانی اس موضوع پر ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی کوئی تصنیف یا خطاب موجود ہے تو اس بارے بھی راہنمائی کر دیں۔ شکریہ

سوال پوچھنے والے کا نام: نور اشرفی

  • مقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 16 فروری 2016ء

موضوع:تقلید

جواب:
اس کے لیے کلامِ اللہ کے حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول و فعل کی اتباع کو معیار قرار دیا گیا ہے۔ حلال و حرام، جائز و ناجائز اور اوامر و نواہی کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت لازمی ہے۔

قرآن و سنت میں دوطرح کے احکام ہیں: بعض احکام محکم اور وضح ہیں جن میں اِجمال، اشتباہ، اِبہام یا تعارض نہیں، انھیں پڑھنے والا ہر شخص بغیر کسی اُلجھن کے اُن کا مطلب آسانی سے سمجھ لیتا ہے۔ جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ کی فرضیت، زنا، شراب نوشی، چوری، فساد فی الارض اور قتل وغیرہ کی حرمت ہے۔

اس کے برعکس قرآن و سنت کے بہت سے احکام ایسے بھی ہیں جن میں بادی النظر میں اِبہام پایا جاتا ہے۔ جیسے عبادات اور معاملات وغیرہ کے فروعی مسائل۔ قرآن و سنت سے ان احکام کے مستنبط اور اخذ کرنے کی دو صورتیں ہیں:

  1. ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم اپنی فہم و بصیرت پر اعتماد کر کے اس قسم کے معاملات میں خود کوئی فیصلہ کر لیں اور اس پر عمل کریں۔
  2. دوسری صورت یہ ہے کہ اس قسم کے معاملات میں از خود کوئی فیصلہ کرنے کے بجائے قرونِ اولیٰ کے جلیل القدر اسلاف کی فہم و بصیرت پر اعتماد کریں اور انہوں نے جو کچھ سمجھا ہے اس کے مطابق عمل کریں۔

چونکہ عام مسلمان قرآن و حدیث سے احکامِ شرع کے قواعد و ضوابط کو سمجھ کر مسائل اخذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لئے جمہور اہلِ سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ شرعی احکام و مسائل کے حل کے لیے امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ یا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ میں سے کسی ایک کی تقلید واجب ہے۔ کیونکہ مذکورہ آئمہ اپنے تقویٰ، زہد و ورع، ثقاہت و دیانت، علم و فکر اور کردار کے حوالوں سے اعلیٰ ترین مقام و مرتبہ کی حامل قرون اولیٰ کی ہستیاں ہیں۔ انہوں نے امت کی سہولت کی خاطر نہایت جانفشانی اور دیانت و لیاقت سے مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں مرتب کیا۔ شریعت اسلامی کے ایسے اصول و قواعد و ضع کئے جس سے عام مسلمانوں کو دین فہمی اور شرعی احکام پر عمل پیرا ہونے میں سہولت ہوئی۔ صدیوں سے علماء کرام ان کے اقوال پر فتوی دیتے آئے ہیں۔ اللہ مجدہ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَo

سو تم اہلِ ذکر سے پوچھ لیا کرو اگر تمہیں خود (کچھ) معلوم نہ ہو۔

(النَّحْل، 16: 43)

کسی امام یا مجتہد کی تقلید کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اُسے بذاتِ خود واجب الاطاعت سمجھ کر اتباع کی جا رہی ہے یا اُسے شارع (شریعت بنانے والا، قانون ساز) کا درجہ دے کر اس کی ہر بات کو واجب الاتباع سمجھا جا رہا ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پیروی تو قرآن و سنت کی مقصود ہے لیکن قرآن و سنت کی مراد کو سمجھنے کے لیے بحیثیت ’شارحِ قانون‘ اُن کی بیان کی ہوئی تشریح و تعبیر پر اعتماد کیا جا رہا ہے۔

آئمہ اربعہ میں سے کسی ایک امام کے طریقہ پر احکامِ شرعیہ بجا لاناتقلیدِ شخصی کہلاتاہے، مثلاً امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ یا امام مالک رحمۃ اللہ علیہ یا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ یا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ میں سے کسی کے طریقے پر عمل کرنا۔

تقلید شخصی کی شرعی حیثیت میں حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

أنَّ الاُمَّةَ قَدْ اجْتَمَعَتْ عَلَی اَنْ يَعْتَمِدُوْا عَلَی السَلَفِ فِيْ مَعْرَفَةِ الشَرِيْعَةِ، فَالتَّابِعُوْنَ اعْتَمَدُوْا فِيْ ذَلِکَ عَلَی الصَحَابَةِ، وَ تَبْعُ التَابِعِيْنَ اعْتَمَدُوْا عَلَی التَّابِعِيْنَ، وَ هَکَذَا فِيْ کُلِّ طَبَقَةٍ إعْتَمَدَ العُلَمَاءُ عَلَی مِنْ قَبْلِهِمْ.

’’امت نے اجماع کر لیا ہے کہ شریعت کی معرفت میں سلف صالحین پر اعتماد کیا جائے۔ تابعین نے اس معاملہ میں صحابہ کرام پر اعتماد کیا اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا۔ اسی طرح ہر طبقہ میں علماء نے اپنے پہلے آنے والوں پر اعتماد کیا۔‘‘

شاه ولی اﷲ، عقد الجيد، 1: 31

اسی طرح تقلید شخصی کو لازم کرنے کی ایک واضح نظیر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعِ قرآن کا واقعہ ہے، جب انہوں نے قرآنِ حکیم کا ایک رسم الخط متعین کر دیا تھا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے پہلے قرآنِ حکیم کو کسی بھی رسم الخط کے مطابق لکھا جا سکتا تھا کیونکہ مختلف نسخوں میں سورتوں کی ترتیب بھی مختلف تھی اور اس ترتیب کے مطابق قرآنِ حکیم لکھنا جائز تھا۔ لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے امت کی اجتماعی مصلحت کے پیشِ نظر اس اجازت کو ختم فرما کر قرآن کریم کے ایک رسم الخط اور ایک ترتِیب کو متعین کر کے امت کو اس پر متفق و متحد کر دیا اور امت میں اسی کی اتباع پر اجماع ہوگیا۔

بخاری، الصحيح، کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن، 4: 1908، رقم: 4702

مذاہبِ اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کی تقلید کا فائدہ یہ ہے کہ عام مسلمان تفرقہ و انتشار سے بچ جاتا ہے۔ اگر تقلیدِ مطلق کی عام اجازت ہو اور ہر شخص کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ جس مسئلے میں جس فقیہ کی چاہے تقلید کر لے تو اس قسم کے اقوال کو جمع کر کے ایک ایسا مذہب تیار ہو سکتا ہے جس میں دین خواہشات کا کھلونا بن کر رہ جائے گا، جسے کسی بھی طور پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ فقہاء کے نذدیک اب تقلیدِ شخصی کی پابندی ضروری ہے اور کسی ایک مجتہد (کے مکتبِ فکر) کو معین کر کے ہر مسئلے میں اسی کی پیروی کی جائے تاکہ نفسِ انسانی کو حلال و حرام کے مسائل میں شرارت کا موقع نہ مل سکے۔

فقہ، اجتہاد اور تقلید کے موضوعات کی مزید تفہیم کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے درج ذیل خطابات معاون ہیں:

فقہ اور فلسفہ اجتہاد و تقلید (امام اعظم کانفرنس)

فقہ، اجتہاد اور تقلید (نشست اول)

فقہ، اجتہاد اور تقلید (نشست دوم)

فقہ، اجتہاد اور تقلید (نشست سوم)

فقہ، اجتہاد اور تقلید (نشست چہارم)

فقہ، اجتہاد اور تقلید (نشست پنجم)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Print Date : 13 December, 2019 12:29:37 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3802/