Fatwa Online

ایمان بالقدر سے کیا مراد ہے؟

سوال نمبر:38

ایمان بالقدر سے کیا مراد ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام:

  • تاریخ اشاعت: 19 جنوری 2011ء

موضوع:ایمانیات  |  ایمانیات

جواب:

ایمان بالقدر سے مراد یہ عقیدہ ہے کہ اس کائنات میں انسانوں کے تمام احوال و کیفیات کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس لوح محفوظ میں اَزل سے لکھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی انفرادی اور شخصی زندگی کے حوالے سے اچھائی اور برائی تخلیق کر کے اسے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دو راستوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرے، چاہے تو نیکی اختیار کرے اور چاہے تو بدی کو اپنائے۔ اس کا ذکر سورۃ البلد میں یوں کیا گیا ہے :

أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِO وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِO وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِO

البلد، 90 : 8 - 10

’’کیا ہم نے اس (انسان) کے لئے دو آنکھیں نہیں بنائیںo اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائےo اور ہم نے اسے دونوں راہیں نمایاں دکھا دیںo‘‘

اس سے ظاہر ہوا کہ انسان محض مجبور نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کچھ کر ہی نہ سکے مگر یہ کہ جو کچھ اس کے ہاتھوں سرزد ہوا اور جو کچھ آئندہ ہونے والا ہے سب اللہ کے علم میں ہے۔ اسی کا نام تقدیر ہے اور اس پر ایمان لانا ایمان بالقدر کہلاتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Print Date : 06 December, 2019 12:46:25 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/38/