Fatwa Online

کیا سرکاری زمین پر بغیراجازت کے مسجد بنانا جائز ہے؟

سوال نمبر:3787

السلام علیکم! ہمارے یہاں‌ مسجد کے ساتھ متصل سرکاری زمین کا ایک ٹکڑا ہے۔ کیا اس زمین کو بغیر سرکار کی اجازت کے مسجد میں شامل کرسکتے ہیں اور وہاں‌ وضو خانہ یا واش روم وغیرہ بنوا سکتے ہیں؟

سوال پوچھنے والے کا نام: اخلاص احمد خان

  • مقام: سلطانپور، انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 11 فروری 2016ء

موضوع: مسجد کے احکام و آداب

جواب:

سرکاری زمین پر بغیر سرکار کی اجازت کے مسجد تعمیرکرنا شرعی، قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔ اگر آپ مسجد سے متصل زمین کو مسجد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے حکومت سے اجازت لینا ضروری ہے۔ کیونکہ سرکاری زمین پر حکومت کی اجازت کے بغیر مسجد بنانے سے زمین سرکار کی ملکیت میں ہی رہے گی اور سرکار کو اس میں تصرف کرنے اور وہاں سے مسجد ہٹانے کا اختیار باقی رہے۔ ایسا کرنے سے بعد میں تنازعات پیدا ہوتے ہیں اور بسا اوقات حکومت کی طرف سے ناجائز قبضہ ہٹانے کے لیے توڑ پھوڑ کی جاتی ہے جس سے اشتعال جنم لیتا ہے۔ اس لیے مسجد کی تعمیر صرف اس جگہ پر اور اتنی ہی جگہ پر کی جائے جتنی مسجد کے لیے خریدی گئی ہے، یا اسے کسی نے وقف کیا ہے۔

اس لیے اگر آپ سرکاری زمین پر مسجد بنانا چاہتے ہیں یا مسجد سے متصل سرکاری زمین کو مسجد میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو حکومت سے اس کی اجازت لیں یا زمین کی قیمت دے کر رضامندی سے خرید لیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 06 December, 2019 11:13:42 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3787/