Fatwa Online

تنسیخِ نکاح کے بعد رجوع کی صورت کیا ہوگی؟

سوال نمبر:3644

اسلام علیکم! مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ ایک لڑکے کی شادی ایک لڑکی سے 2009ء میں ہوئی۔ وہ لڑکا 2 ماہ بعد بیرون ملک چلا گیا۔ اب تک اس نے لڑکی سے کوئی رابطہ کیا، فون پر بات کی اور نہ ہی چھٹی آیا۔ چھ سال ہونے کو ہیں۔ عدالت نے لڑکی کے حق میں خلع کا فیصلہ دے دیا ہے، لیکن اب لڑکے والے جو ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہمیں وقت دیں سوچنے کے لیے۔ جبکہ عدالت کی طرف سے دیئے گئے وقت عدت میں صرف دو چار دن باقی ہیں۔ کیا نکاح باقی رہے گا یا فسخ ہو چکا ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: راشد محمود

  • مقام: سیالکوٹ
  • تاریخ اشاعت: 02 جون 2015ء

موضوع:فسخِ نکاح

جواب:

لڑکی کی درخواست پر عدالت نے جس روز تنسیخِ نکاح کا فیصلہ دیا اسی دن نکاح ختم ہوگیا۔ اگر فریقین باہمی رضامندی سے رجوع کرنا چاہیں تو نئے حق مہر کے ساتھ، دورانِ عدت یا عدت کی مدت گزر جانے کے بعد، دوبارہ نکاح کریں گے۔ اس دوسرے نکاح کے بعد لڑکے کے پاس صرف دو طلاق کا حق باقی رہ جائے گا۔

اگر لڑکا اور لڑکی دوبارہ نکاح کر کے رجوع نہیں کرتے تو لڑکی آزاد ہے، عدت کے بعد کسی بھی جگہ نکاح کر سکتی ہے۔ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ مذکورہ لڑکی کی شادی دوسری اچھی جگہ کردی جائے۔

یہ بات ذہن نشین رہے کہ عدت کی مدت عورت کی موجودہ حالت کے مطابق ہوتی ہے، جیسے حائضہ کی عدت تین حیض، حاملہ کی عدت وضع حمل اور ایسی عورت جس کو بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو اس کی عدت تین ماہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 12 December, 2019 05:20:23 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3644/