Fatwa Online

اگر زنا کے گواہ چار سے کم ہوں تو زانی کو کیا سزا دی جائے گی؟

سوال نمبر:3642

السلام علیکم و رحمۃ اللہ! اگر کسی شخص نے واقعی زنا بالجبر کیا ہو اور چار گواہ کے بجائے دو تین گواہ ہوں تو ایسے شخص کو رجم کے علاوہ کوئی اور سزا ہوسکتی ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: عمران خان

  • مقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 01 جون 2015ء

موضوع:شہادت (گواہی)   |  زنا و بدکاری

جواب:

زنا کے ثبوت کے لیے درج ذیل صورتوں میں سے کسی ایک کا پایا جانا ضروری ہے:

  1. ملزم اور ملزمہ دونوں یا ان میں سے کوئی ایک مباشرت کرنے کا اعتراف کر لے کہ اس نے  آزادانہ طور پر اپنی مرضی سے یہ فعل کیا ہے
  2. بغیر شوہر حمل ٹھہر جائے
  3. چار عینی شاہد موجود ہوں، جو گواہی دیں کہ انہوں نے مرد اور عورت کو عین حالتِ مباشرت میں دیکھا ہے

مذکورہ صورتوں میں سے کوئی ایک صورت بھی پائی گئی تو زنا کا جرم ثابت ہوجائے گا، اور عدالت مجرم اور مجرمہ کو حداً سزا جاری کرے گی۔

اس کے برعکس ملزم اور ملزمہ میں سے کوئی اعترافِ مباشرت کرے، حمل ٹھہرا ہو اور نہ ہی چار عینی شاہد ان کی مباشرت کی شہادت دیں تو زنا ثابت نہیں ہوگا، ملزم اور ملزمہ کو زانی کہا جائے گا اور اور نہ ہی ان پر حدِ زنا جاری ہوگی۔ تاہم اگر قاضی یا عدالت یہ دیکھیں کہ ملزم بد چلن ہے، یا غیرمحرم ہونے کے باوجود ملزم اور ملزمہ کے تعلقات اور میل میلاپ ہے یا وہ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھے گئے ہیں تو حسب ضرورت عدالت انہیں تعزیری سزا جاری کرسکتی ہے۔ تعزیری سزا، ایسی سزا کو کہتے ہیں جسے شریعت میں بلحاظ مقدار و نوعیت مقرر نہ کیا گیا ہو بلکہ عدالت کو اختیار ہو کہ وہ حالات و واقعات کے مطابق سزا کی مقدار میں کمی پیشی کر سکتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا ڈی این اے ٹیسٹ زنا کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے؟

زنا کی جامع تعریف کیا ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 01 April, 2020 07:54:59 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3642/