Fatwa Online

کیا موبائل کمپنیوں کے دیے گئے ایڈوانس پر اضافی کٹوتی سود کے زمرے میں‌ آتی ہے؟

سوال نمبر:3521

السلام علیکم! موبائل فون کمپنیاں ایڈوانس دیکر اگلے ریچارج پر اضافی پیسوں سمیت ایڈوانس کی رقم کاٹ لیتی ہیں، تو کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: کفایت الرحمان

  • مقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 04 مارچ 2015ء

موضوع:جدید فقہی مسائل

جواب:

موبائل کمپنیوں کا ایڈوانس دے کر واپسی کے وقت اضافی اخراجات لینا سود کے زمرے میں نہیں آتا۔ یہ اضافی رقم کمپنی کے سروس چارجز اور حکومتی ٹیکس ہوتا ہے جو وہ ایزی لوڈ اور کارڈ لوڈ پر بھی کاٹ لیتے ہیں۔ موبائل کمپنی نقد رقم کی صورت میں ادھار نہیں دیتی بلکہ کمپنی کی طرف سے جو بیلنس موبائل میں ٹرانسفر کیا جاتا ہے وہ در حقیقت گفتگو کا حق ہے۔گویا ہم نے کمپنی سے نقد رقم نہیں لی، بلکہ ایک خدمت لی ہے، جس کی قیمت ہم خدمت کے حصول کے بعد ادا کرتے ہیں (جبکہ کارڈ یا ایزی لوڈ میں پہلے ہی ادا کر دیتے ہیں)۔ فرق صرف تقدیم وتاخیر کا ہے۔ پس اضافی رقم پر سود کا حکم لاگو نہیں ہوتا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 15 December, 2019 08:17:18 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3521/