Fatwa Online

خواجہ سراء کے احکامِ وراثت کیا ہیں؟

سوال نمبر:3419

السلام علیکم! مرد و عورت کے لئے وراثت کے احکام قرآن و سنت سےثابت ہیں، کیا ہیجڑے کے متعلق احکام وراثت ہیں؟ بحوالہ جواب عنایت فرمائیں۔ شکریہ

سوال پوچھنے والے کا نام: مدثر فراز

  • مقام: بھارت
  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2015ء

موضوع:تقسیمِ وراثت  |  مخنث کے احکام

جواب:

قرآن و حدیث میں خواجہ سراء یا ہیجڑے یا خنثیٰ کی وراثت سے متعلق اگرچہ کوئی نص مذکور نہیں ہے تاہم فقہاء نے اس کی وارثت سے متعلق اصول وضع کیے ہیں، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:
خنثیٰ کی تین اقسام ہیں:

  1. خنثیٰ مذکر: ایسا خواجہ سراء جس میں مردوں کی علامات غالب ہوتی ہیں خنثیٰ مذکر کہلاتا ہے۔ اس کے احکامِ وراثت وہی ہیں جو دیگر مردوں کے ہیں۔
  2. خنثیٰ مؤنث: ایسا خواجہ سراء جس میں عورتوں کی علامات غالب ہوتی ہیں خنثیٰ مؤنث کہلاتا ہے۔ اس کے احکامِ وراثت وہی ہیں جو دیگر خواتین کے ہیں۔
  3. خنثیٰ مشکل: ایسا خواجہ سراء جس میں مردوں اور عورتوں دونوں کی علامات ہوتی ہیں، لیکن یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کونسی علامت زیادہ غالب ہے۔

اسی تیسری اور آخری قسم کے بارے میں اشکال و اختلاف ہے۔ کیونکہ خنثیٰ مشکل کا عورت یا مرد ہونا یقینی نہیں ہوتا۔ اس کے احکامِ وراثت بیان کرتے ہوئے بعض فقہاء نے کہا ہے کہ جس صورت میں اسے کم حصہ ملے وہ دیا جائے۔ یعنی مذکر ہونے کی صورت میں کم حصہ ملتا ہے تو مذکر شمار کیا جائے اور اگر مؤنث ہونے کی صورت میں کم حصہ ملتا ہے تو مؤنث شمار کریں۔

کچھ فقہائے کرام کی یہ رائے بھی ہے کہ خنثیٰ مشکل کو تقسیمِ وراثت کے وقت مذکر شمار کر کے بھی حصے نکالیے جائیں اور مؤنث کے طور پر بھی اس کا حصہ نکال لیا جائے، پھر دونوں کو جمع کر کے نصف اسے دیا جائے۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ وراثت میں سے یا تو خنثیٰ مشکل کو مؤنث والا حصہ دیا جائے یا پھر اس کے بالغ ہونے کا انتظار کیا جائے۔ بلوغت کے بعد جو علامات غالب آئیں ان کے مطابق حصہ دیا جائے۔ اختصار کی خاطر ہم نے فقہاء کی آراء پیش کر دی ہیں، مزید ضاحت کے لیے ذیل میں‌ دیئے گئے حوالہ جات کا مطالعہ کیجیے:

  1. ابنِ نجیم، البحرالرائق، کتاب الخنثیٰ، 8: 538، دارالمعرفة، بیروت
  2. حصکفی، الدرالمختار، کتاب الخنثیٰ، 6: 727، دارالفکر، بیروت
  3. سرخسی، المبسوط، کتاب الخنثیٰ، 30: 103، دارالمعرفة بیروت
  4. مرغینانی، الهدایه، فصل فی احکامه، 4: 267، المکتبة الاسلامیة
  5. کاسانی، بدائع الصنائع، کتاب الخنثیٰ، 7: 327، دارالکتاب العربی، بیروت
  6. ابنِ عابدین، ردالمختار، کتاب الخنثیٰ، 6:727، دارالفکر، بیروت
  7. شیخ نظام و جماعته من علماء الهند، کتاب الخنثیٰ، 6:437، دارالفکر، بیروت
  8. محمد محی الدین عبدالمجید، احکام المواریث فی شریعة الاسلامیة علیٰ مذاهب الائمة الاربعة، القول فی میراث الخنثیٰ: 201، المکتبة العصریه، بیروت

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:عبدالقیوم ہزاروی

Print Date : 13 December, 2019 12:31:09 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3419/