Fatwa Online

کیا جعلی طلاق نامہ سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:3322

السلام علیکم! مدعا بیان ہے کہ میرا کچھ عرصہ پہلے اپنے خا وند سے جھگڑا ہوا تھا اور انہوں نے کچھ ایسے الفاظ بولے،جن پر میں نے آپ کے اداراے سے فتویٰ لیا تھا جس کے مطابق ان الفاظ سے ایک طلاق واقع ہو چکی ہے لیکن اگر دونوں فریقین چاہیں تو تجدید نکاح کر سکتے ہیں۔ مگر حلات کافی کشیدہ ہو تے گئے اور رابطہ نہ رہ سکا۔

اب حالات کچھ یوں ہیں کہ میرے کچھ کیسز عدالت میں ہیں، اور میرے خاوند نے محض عدالتی اور قانونی کاروائی سے بچنے کے لیئے اپنے دوست کے ذریعےجعلی طلاق نامہ تیار کروایا جس پر دستخط بھی میرے خاوند کے نہیں تھے۔ میرے شوہر نے وہ طلاق نامہ عدالت میں پیش کیا اور کہا کہ یہ ہے طلاق نامہ اور میں اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہوں، میں نے وہ طلاق نامہ عدالت میں چیلنج کیا اور عدالتی فیصلہ یہ ہے کہ وہ طلاق نامہ جعلی تھا۔

میں جاننا چاہتی ہوں کہ کیا طلاق ہو چکی ہے؟ ا گر ہو چکی ہے تو تاحال کچھ عدالتی اور قانونی وجوہات کی بنا پر مجھے انہیں اپنا خاوند تسلیم کرنا پڑتا ہے اور اپنے نام کے ساتھ ان کا نام بحثیت شوہر لگانا پڑتا ہے، کیا یہ شرعاً جائز ہے؟ اور اگر رجوع ممکن ہو تو کیا تجدید نکاح کی صورت ہو گی یا حلالہ؟ براہ مہربانی رہنمائی فرما دیں۔ شکریہ

سوال پوچھنے والے کا نام: نازلی

  • مقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 09 جولائی 2014ء

موضوع:طلاق

جواب:

ان سوالات کے جوابات دیے جا چکے ہیں۔ جوابات کے مطالعہ کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا طلاق بیوی کو موصول نہ ہونے کی صورت میں‌ بھی واقع ہو جاتی ہے؟

کیا مطلقہ بوقت ضرورت سابق شوہر کا نام استعمال کر سکتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Print Date : 22 November, 2019 04:30:47 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3322/