Fatwa Online

کیاغیر محرم کے ساتھ ہنسی، مزاق جائز ہے؟

سوال نمبر:3200

السلام علیکم! کیا مرداپنی بیوی کے علاوہ دوسری عورت سے ہنسی، مزاق کر سکتاہے؟ اور اگر کوئی عورت خود ہنسی اور ٹھٹھہ کرے تو کیا حکم ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: ثنا شہزادی

  • مقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 03 جولائی 2014ء

موضوع:جدید فقہی مسائل

جواب:

مرد ہو یا عورت، غیر محرم سے ہنسی مذاق نہیں کر سکتے، ایسا کرنا حرام ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا

(الاحزاب،32:33)

’’اے اَزواجِ پیغمبر! تم عورتوں میں سے کسی ایک کی بھی مِثل نہیں ہو، اگر تم پرہیزگار رہنا چاہتی ہو تو (مَردوں سے حسبِ ضرورت) بات کرنے میں نرم لہجہ اختیار نہ کرنا کہ جس کے دل میں (نِفاق کی) بیماری ہے (کہیں) وہ لالچ کرنے لگے اور (ہمیشہ) شک اور لچک سے محفوظ بات کرنا‘‘۔

باقی اپنی بیوی سمیت محرمات میں  سے کسی بھی عورت کے ساتھ شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے مزاح کرسکتا ہے، اس کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:عبدالقیوم ہزاروی

Print Date : 04 March, 2021 08:29:03 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/3200/