Fatwa Online

اگر صف میں صرف ایک نمازی ہو تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی؟

سوال نمبر:2979

السلام و علیکم میرا سوال یہ ہے کہ اگر صف میں صرف ایک نمازی ہو تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی اور کیا اس کو جماعت کا ثواب ملے گا؟

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد شفقت محمود

  • مقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 03 دسمبر 2013ء

موضوع:عبادات  |  نماز  |  نمازِ باجماعت کے احکام و مسائل

جواب:

اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ جب کوئی اکیلا ہو وہ پہلے جو صف مکمل ہو چکی ہوتی ہے اس کے درمیان سے ایک بندے کے کندھے پر ہاتھ رکھے اور پیچھے کی طرف کرے اور وہ دونوں نئی صف بنا لیں یہ اس وقت ہے جب کوئی اور بندہ آتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اگر لوگ وضو کر کے آ رہے ہیں یا جماعت شروع ہوئی ہے ابھی لوگ آ رہے ہیں پھر ضرورت نہیں ۔

لیکن آج کل یہ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ایسا کرنا چاہیے۔ اس لیے امکان ہے کہ جس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے لانے کی کوشش کی جائے شاید اس کو مسئلہ معلوم نہ ہو وہ نہ آئے یا نماز چھوڑ کر لڑائی شروع کر لے۔ کیونکہ بدقسمتی سے اس طرح کے مسائل بہت کم بتائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو آگاہی نہیں ہے۔ لہذا اکیلا ہی کھڑا ہو جائے اگر کوئی آ گیا تو بہتر ہے نہیں تو نماز ہو جائے گی اور جماعت کا ہی ثواب ملے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:عبدالقیوم ہزاروی

Print Date : 21 October, 2020 09:07:40 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2979/