Fatwa Online

کیا غیرت کے نام پر قتل کرنا جائز ہے؟

سوال نمبر:2877

السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میرا شوہر کے چچا کی بیٹی جو کہ 4 سے 5 بچوں کی ماں تھی اور ایک بیٹی کی شادی ہو چکی تھی وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی اور اس کے بھائیوں نے اور شوہر نے اس کو ڈھونڈ کر گھر لا کر سب بچوں کے سامنے قتل کر دیا جب کہ اس کا بیٹا کہتا ہے امی بے قصور تھی اور یہ ابو کی پلاننگ تھی ساری اور اس کا شوہر اس عورت کے بھائیوں کو الزام دیتا ہے کیا ایسے قتل کرنا جائز ہے؟ چھوٹے چھوٹے اس کے بچے تھے جو کہ اب در بدر ہیں انہوں‌ نے اس عورت کے شوہر کو جیل بھجوایا اور پھر معافی دینے کا ڈرامہ کر کہ چھڑا لیا اب وہ آزاد ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: نا معلوم

  • مقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 14 اکتوبر 2013ء

موضوع:معاملات

جواب:

قاتلوں نے قانون ہاتھ میں لیا ہے۔ سزا دینا عدالت کا کام تھا اگر وہ قصور وار تھی تو بذریعہ عدالت اس کو سزا دلواتے۔ اس طرح ہر ایک شخص کو قتل کرنے کی اجازت نہیں ہے اور ایسا کام شرعا بھی جائز نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:عبدالقیوم ہزاروی

Print Date : 12 November, 2019 02:50:10 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2877/