Fatwa Online

کیا سرمایہ کاری کی رقم پر زکوۃ لاگو ہوتی ہے؟

سوال نمبر:2680

السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں‌ نے ایک کمپنی میں دو ملین روپے انوسٹ کیے ہیں اور میں‌ نے منافع حاصل کر رہا ہوں۔ میں‌ دس سال سے ایسا کر رہا ہوں۔ میں‌ اس رقم سے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہوں۔ کیا مجھے اس رقم پر زکوۃ ادا کرنی چاہیے جو میں‌ نے انوسٹ کی ہوئی ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: محسن

  • مقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 13 جولائی 2013ء

موضوع:ایمانیات  |  زکوۃ

جواب:

آپ کی ملکیت میں جو سونا، چاندی، رقم یا سامان تجارت وغیرہ سب پر زکوۃ لاگو ہو گی۔ خواہ وہ رقم آپ نے انوسٹ کی ہوئی ہے یا کسی کو قرض کے طور پر دی ہوئی ہے۔ باقی رہا مکان، پلاٹ، گاڑی اور مشینری وغیرہ سے آنے والی انکم کو زکوۃ میں شامل کیا جائے گا یا ان کو بیچنے کی صورت میں جو رقم حاصل ہو گی اس کو نصاب زکوۃ میں شامل کیا جائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:عبدالقیوم ہزاروی

Print Date : 22 November, 2019 04:33:26 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2680/