Fatwa Online

کیا غیر مقلد کے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے؟

سوال نمبر:2449

السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میں بیرون ملک فیملی کے ساتھ رہتا ہوں۔ ہمارے گھر کے پاس ایک مسجد ہے جو کہ کسی دوسرے مسلک کی ہے اور بہت سے غیر مقلد بھی اسی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ میں عقیدے کے اعتبار سے اہل سنت ہوں، قادری اور منہاج القرآن کا لائف ممبر ہوں۔ مجھے نماز گھر پڑھنی چاہیے یا مسجد میں؟

سوال پوچھنے والے کا نام: یار

  • مقام: آسٹریا
  • تاریخ اشاعت: 26 مارچ 2013ء

موضوع:نماز  |  عبادات

جواب:

اگر عقیدہ خراب ہونے کا ڈر ہو پھر گھر میں نماز پڑھ لینا بہتر ہے، اگر ہو سکے تو آپ کوشش کریں کسی اہل سنت کی مسجد میں چلے جایا کریں، اگرچہ کچھ فاصلے پر بھی ہو تو کوئی بات نہیں نیک کام کے لیے نکلو گے تو زیادہ ثواب ہو گا۔ بس یہ بات مد نظر رکھیں کہ اگر کوئی بدعقیدہ شخص، صحیح العقیدہ مسلمانوں کو کافر، مشرک اور بدعتی کہے، ایسا شخص چاہے جہاں بھی ہو اس کے پیچھے نمازیں خراب نہ کرو الگ پڑھ لو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:عبدالقیوم ہزاروی

Print Date : 15 December, 2019 11:22:05 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2449/