Fatwa Online

کیا دارالکفر میں سود لینا اور دینا جائز ہے؟

سوال نمبر:2156

السلام علیکم! کیا بیرون ممالک میں مقیم مسلمانوں کا سود لینا اور دینا جائز ہے؟ اگر کسی خاص ملک میں‌ ایسا کرسکتے ہیں تو وضاحت فرما دیجیے۔ براہ مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں تفصیل سے دیں۔

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد فرحان صدیقی

  • مقام: کراچی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 30 ستمبر 2012ء

موضوع:سود

جواب:

سُود (الربوٰ) قرآن و سنت اور اجماع امت اور قیاس شرعی یعنی عقل و نقل ہر لحاظ سے حرام قطعی ہے۔ لینے والا، دینے والا، گواہ اور لکھنے والا سب اس گناہ کبیرہ میں برابر کے شریک ہیں۔

سود کی دو قسمیں ہیں :

  1. ربٰو النّسیئۃ:
    قرض پر کچھ اضافہ بطور شرط۔
  2. ربٰو الفضل:
    ناپ تول میں آنے والے ہم جنس کا باہمی تبادلہ ایک طرف سے زیادتی کی شرط کے ساتھ۔

پہلی قسم کی حرمت قرآن پاک سے اور دوسری قسم کی حرمت حدیث پاک سے ثابت ہے۔ اس وقت اس مختصر تحریر میں سُود کے تفصیلی احکام بتانا پیش نظر نہیں، صرف ایک پہلو کے متعلق ہمارے پاس کثرت سے سوالات آ رہے ہیں اور جواب کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ ’’کیا غیر مسلم کا مال جس طرح چاہیں لے سکتے ہیں؟ اور کیا غیر اسلامی ممالک کے باشندوں سے سوُد لینے میں مسلمانوں کو چھوٹ ہے؟‘‘ ہم پہلے دار الحرب کی تعریف اور پھر اس کے احکام بیان کریں گے۔

دار الحرب :

علامہ حصفکی الدر المختار میں لکھتے ہیں :

(لا تصير دار الاسلام دار حرب الا) بأمور ثلاثة : (باِجراء أحکام أهل الشرک، و باتصالها بدار الحرب، و بأن لا يبقی فيها مسلم أو ذمی آمنا بالأمان الأول) علی نفسه (و دار الحرب تصير دار الاسلام باِجراء أحکام أهل الاسلام فيها) کجمعة و عيد.

’’دار الاسلام صرف تین باتوں سے دار الحرب بنتا ہے:

  1. (کفار) و مشرکین کے احکام نافذ ہوں۔
  2. دار الاسلام، دار الحرب سے مل جائے۔
  3. اس میں کوئی مسلمان یا ذمی باقی نہ رہے۔
  4. اور دار الحرب اسلامی احکام نافذ ہونے سے دار الاسلام ہو جاتا ہے جیسے نماز و عید‘‘۔

    شامی، در المختار، 4 : 175، کراچی

    امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲاور صاحبین کا مذہب یہ ہے کہ دار الاسلام سے دار الحرب بننے میں صرف ایک شرط ہے:

    اظهار حکم الکفر۔

    ’’احکام کفر کا اظہار‘‘۔

    لو أجريت احکام المسلمين، و أحکام أهل الشرک لا تکون دار حرب.

    ’’اگر مسلمانوں کے احکام بھی چلتے ہیں ہوں اور مشرکین کے احکام بھی نافذ ہوں تو وہ ملک دار الحرب نہیں‘‘۔

    شامی، در المختار، 4 : 175، کراچی

    امام ابو يوسف فرماتے ہیں :

    لا يجوز للمسلم فی دار الحرب الا مايجوز له فی دار الاسلام.

    ’’مسلمان کے لیے دار الحرب میں صرف وہی جائز ہے جو دار الاسلام میں‘‘۔ اور یہی حق ہے۔

    علامه کاسانی، بدائع الصنائع، 7 : 132

    ان حرمة الربا ثابتة فی حق العاقدين اما فی حق المسلم فظاهر، و اما فی حق الحربی فلان الکفار مخاطبون بالحرمات و قال تعالٰی جلّ شانه : و اخذ هم الربا و قد نهوا عنه

    ’’سود کی حرمت دونوں فریقوں (مسلم اور غیر مسلم)  کے حق میں ثابت ہے۔ مسلمان کے حق میں تو ظاہر ہے۔ حربی کے حق میں حرمت اس لیے ثابت ہے کہ کافر حرمتوں کے مخاطب ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے: ان (یہودیوں) کے سود لینے کی وجہ سے اُن پر لعنت کی گئی حالانکہ ان کو اس سے منع کیا گیا تھا‘‘۔

    قوله عليه الصلٰوة و السلام: لا ربا بين المسلم و الحربی فی دار الحرب.

    ’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : مسلمان اور حربی کافر کے درمیان دار الحرب میں سُود نہیں‘‘۔

    المغنی میں مصنف نے کہا :

    هٰذا خبر مجهول لم يُرو فی صحيح و لا مسند و لا کتاب موثوق به.

    ’’یہ خبر مجہول ہے، کسی صحیح مسند یا کسی قابل اعتماد کتاب میں اسے روایت نہیں کیا گیا‘‘۔

    اس کے ساتھ یہ روایت مُرسل ہے اور احتمال ہے کہ ’’لَارِبٰو‘‘(سُود نہیں) منع کا ہو (یعنی سُود کا لین دین مت کرو)۔ جیسے فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

    فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ.

    ’’جو حج کے مہینوں میں حج کی نیت کرے تو نہ صحبت کی باتیں ہوں نہ کوئی گناہ، نہ کسی سے جھگڑا‘‘۔

    البقره، 2 : 197

    بالفرض یہ روایت مجہول صحیح بھی ہو تو معنی یہ ہو گا کہ جس طرح مسلمانوں کے لیے ذمیوں اور مستامنوں سے سُودی لین دین جائز نہیں حربیوں سے بھی ربیٰ (سُود) جائز نہیں نیز یہ روایت ثابت ہو بھی جائے تو خبر واحد قرآن کے مطلقات کو اس سے مقید نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً لاَ تَأْكُلُواْ الرِّبَا.’’سُود نہ کھاؤ‘‘۔ مطلق ہے نہ اس پر خبر واحد سے اضافہ جائز ہے نہ اس مطلق کو مقید کرنا۔

    امام ابن الهمام، فتح القدير، 6 : 177، طبع سکهر

    خلاصہ کلام :

    سُود لینا، دینا، گواہ بننا یا تحریر کرنا شرعاً گناہ کبیرہ ہے اور سخت گناہ ہے، اﷲ تعالیٰ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کرنا ہے۔ دار الحرب کا مال تو ہمارے لیے جائز ہے۔ سُود، خنزیر، مردار، شراب، جوا اور باقی حرمتیں مسلمان کے لیے ہر جگہ اور ہر وقت اور ہر کسی کے لیے حرام ہیں۔ یہ نہیں ہوتا کہ مسلمان پر دارالاسلام میں تو سُود، جوا، رشوت، شراب، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، بدکاری، فحاشی، عریانی، نشہ، بددیانتی، بدعہدی، جھوٹ، دھوکہ حرام ہوں، اور جونہی دارالکفر یا دار الحرب آ جائے تو یہ سب حلال ہو جائیں۔ ماں، بہن، بیٹی، خالہ، پھوپھی، بھتیجی، بھانجی اور مشرکہ کافرہ سے نکاح کرنا دارالاسلام میں ناجائز و حرام ہے تو دار الحرب یا دار الکفر میں بھی ناجائز و حرام ہی ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں اسلامی اصولوں پر بلا کم و کاست عمل کی توفیق دے۔ اسی میں ہمارا اور باقی دنیا کا بھلا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو ہے مکمل تباہی ہے۔

    واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

    مفتی:عبدالقیوم ہزاروی

    Print Date : 13 November, 2019 11:05:49 AM

    Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/2156/