Fatwa Online

فضولیات میں روپیہ پیسہ ضائع کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:1826

السلام و علیکم ہم پاکستان سے باہر رہتے ہیں اور میرا سوال کچھ لمبا ہے پر درخواست ہے کہ تفصیلی جواب دیں۔ میرے شوہر کے پاس جب بھی پیسہ آتا ہے۔ وہ فضولیات میں اڑا دیتے ہیں۔ جیسے کہ ان کے بھائی کے پاس لاکھوں روپیہ تھا پر انہوں نے سارا پیسہ خود لگایا اور ہزاروں روپے اوپر سے پھینک دیے۔ جب کے جس پیسے سے ہم نے اس کی شادی کی وہ ہم نے قرض اٹھا کے کی۔ ہمارے پاس نا کوئی گھر ہے نا بزنس، ابھی بھی انہوں نے بنک سے قرض لے کے اپنے اسی بھائی کو باہر سیٹ کروایا ہے اور سارے خراب حالات ان کے ساتھ مجھے دکھنے پڑتے ہیں۔ اس کے باوجود نا ان کا بھائی خوش ہے نا ان کے والدین۔ میری شادی کے چھ سال بعد اللہ پاک نے بیٹی دی ہے۔ میں اس کو منہاج القرآن میں پڑھا کہ عالمہ بنانا چاہتی ہوں،جہاں ہم رہتے ہیں ادھر کا ماحول بے حد خراب ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے شوہر پاکستان گھر بنائیں تاکہ بچوں کے بڑے ہونے تک ہم پاکستان جا کے رہ سکیں۔ ذرا سا کہوں تو سب ناراض ہو جاتے ہیں کہ یہ چاہتی ہے کہ ہمارا بیٹا گھر والوں سے نا کرے۔ اللہ جانتا ہے میں ایسا نہیں سوچتی۔ اس کا حل بتائیے پلیز؟ اور میری بیٹی کے لیے دعا بھی کیجئے پلیز،

سوال پوچھنے والے کا نام: نامعلوم

  • مقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 22 جون 2012ء

موضوع:معاملات

جواب:

فضولیات میں روپیہ پیسہ خرچ کرنا حرام ہے۔ اور قرآن پاک میں اللہ تعالی نے فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے۔

إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُواْ إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا

(بنی اسرائيل، 17 : 27)

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔

آپ اپنے شوہر سے بار بار اصرار جاری رکھیں اور جہاں آپ رہ رہی ہیں وہاں کے حالات سے انہیں آگاہ کرتی رہیں۔ اللہ تعالی آپ کے اس نیک کام میں مدد فرمائے گا اور ایک دن آپ کے شوہر کو ساری حقیقت کا پتا چل جائے گا۔

آپ کی سوچ بہت اچھی ہے اور دین کی تعلیم ہی اصل اور بچوں کا زیور ہے، جس سے وہ اپنی اور اپنی اولاد کی صحیح معنوں میں اسلامی تعلیمات کے مطابق تربیت کر کے دنیا و آخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نماز کی پابندی کریں اور روزانہ تلاوت قرآن کیا کریں اور کثرت کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام بھیجا کریں اور یہ وظیفہ بھی دن میں سو 100 مرتبہ کر لیا کریں۔ اللہ تعالی آپ کا حامی وناصر ہو۔

حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ نِعْمَ الْمَوْلَى وَنِعْمَ النَّصِيرُ

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:حافظ محمد اشتیاق الازہری

Print Date : 15 December, 2019 09:45:12 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1826/