Fatwa Online

حقوق العباد ادا نہ کرنے کی صورت میں کس سے معافی مانگی جائے؟

سوال نمبر:1764

میں‌ نے ڈاکٹر صاحب سے سنا ہے کہ غیبت اور باقی تمام حقوق العباد ادا نہ کرنے سے سخت عذاب ہوتا ہے۔ براہ مہربانی مجھے بتا دیں کہ میں اگر توبہ کروں تو اللہ سے کروں یا ان ان گنت لوگوں سے جو کہ ایک بہت مشکل کام ہوگا۔

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد مقصود نواز

  • مقام: بہاولپور
  • تاریخ اشاعت: 18 مئی 2012ء

موضوع:حقوق العباد

جواب:

ایسی صورت میں معافی انہی لوگوں سے مانگی جائے گی جن کے حقوق غصب کیے گئے ہوں۔ اگرچہ یہ مشکل کام ہے۔ لیکن جس کے ساتھ ظلم کیا گیا ہو اسی سے معافی بھی مانگی جائے گی، یہ اس کا حق ہے۔ اگر وہ معاف کر دے تو پھر اللہ تعالی بھی اس شخص کو معاف فرمانے والا ہے۔

مزید یہ کہ بعض علماء بیان فرماتے ہیں کہ اگر مظلوم شخص کے گناہ زیادہ ہوئے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے کہے گا کہ اگر تو اس شخص کو جس نے تمہارے ساتھ ظلم کیا اور وہ بعد میں اپنے اس گناہ پر شرمندہ ہو کر تجھ سے معافی مانگتا رہا پر تو نے اسے معاف نہیں کیا۔ لہذا تم اس کو معاف کر دو تو میں تمہارے گناہ بخش دوں گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:حافظ محمد اشتیاق الازہری

Print Date : 29 January, 2022 07:07:19 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1764/