Fatwa Online

کیا حضور (ص) نے نجد کے بارے میں کوئی دعا کی؟

سوال نمبر:1568

نجد کے بارے میں میں نے سنا ہے کہ آقا علیہ الصلوٰۃ‌ والسلام نے دعا نہیں کی۔ کیا یہ حقیقت ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: مبشر حسن

  • مقام: سعودی عرب
  • تاریخ اشاعت: 02 اپریل 2012ء

موضوع:متفرق مسائل

جواب:

جی ہاں! یہ حقیقت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجد کے لیے دعا نہیں فرمائی۔ صحیح بخاری کتاب الفتن میں اور اسی طرح دوسری کتب احادیث میں یہ حدیث پاک مذکور ہے۔ جو بہت معروف ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی، اے اللہ ہمارے لیے ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمیں ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، بعض لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نجد میں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دعا فرمائی، اے اللہ ہمارے لیے ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمارے لیے ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، بعض لوگوں نے پھر عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نجد میں بھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا، وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ وہیں سے نکلے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:حافظ محمد اشتیاق الازہری

Print Date : 15 December, 2019 08:55:11 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1568/