Fatwa Online

اگر عدالت خلع کے احکام جاری کر دے تو کیا رجوع کی کوئی صورت ہے؟

سوال نمبر:1319

مفتی صاحب میری راہنمائی فرمائیں تقریبا5 برس پہلے میری بیوی نے گھریلو جھگڑوں وغیرہ کی وجہ سے عدالت میں جا کر خلع کا مقدمہ کر دیا عدالت نے سماعت کے بعد خلع کا حق میری بیوی کو دے دیا اور ہماری علیحدگی ہو گئی ہمارا ایک بیٹا بھی تھا عدالت کے حکم کے مطابق میں اپنے بیٹے کا خرچ جو عدالت نے طے کیا وہ بھی اب تک دیتا رہا ہوں لیکن میں نے اپنی بیوی کونا تو زبان سے طلاق دی اور نہ ہی تحریری طور پر دی۔ اب چند ماہ پہلے ایک مفتی صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اگر خاوند نے زبان سے یا تحریری طلاق نہیں دی تو طلاق نہیں ہوتی۔ اب ہم دونوں میاں بیوی تقریبا 5 سال بعدپھر اکھٹے رہ رہے ہیں اس لئے ہمارے عزیز رشتہ دار ہمیں لعن طعن کر رہے ہیں کیا ہمارا اکٹھےرہنا درست ہے یا نہیں

سوال پوچھنے والے کا نام: غفور احمد

  • مقام: راجڑ کلاں، سرائے عالمگیر، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 23 دسمبر 2011ء

موضوع:معاملات  |  خلع کا حکم   |  خلع کے احکام   |  خلع کی عدت

جواب:

خلع کا معنی ہے عورت مال دے کر اپنی جان خاوند سے چھڑا لے۔ خلع میں عورت مال ادا کرے گی، خاوند نے جب مال قبول کر لیا تو یہی خلع ہے، عورت کو ایک طلاق بائن ہو جائے گی اور عورت عدت گزار کر جہاں چاہے آزاد ہے، اور اپنی مرضی سے شادی کر سکتی ہے۔ اگر شوہر مال قبول نہ کرے تو خلع نہیں ہوگی، جب خلع نہیں تو طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ خلع کی صورت میں چونکہ طلاق بائن ہوتی ہے، لہذا رجوع نہیں ہو سکتا۔ نکاح فوراً ٹوٹ جاتا ہے، البتہ دوبارہ رضامند ہوں اور ازدواجی تعلقات از سر نو قائم کرنا چاہیں تو فریقین باہمی رضامندی سے از سر نو نکاح جب چاہیں کر سکتے ہیں، آپس میں تجدید نکاح کی صورت میں عدت گزرنے کی قید بھی نہیں، اگر یہ عورت عدت گزرنے کے بعد کسی اور سے نکاح کرنا چاہے تو بھی کر سکتی ہے۔

آپ کا مسئلہ جیسا کہ آپ نے ذکر کیا کہ آپ نے نہ تو زبانی طلاق دی اور نہ ہی تحریری یعنی آپ نے طلاق نہیں دی۔ اور عدالت نے بیوی کے حق میں خلع کا فیصلہ فرمایا اور آپ نے قبول کیا اور خلع واقع ہو گئی۔ اب آپ کی بیوی نے کسی اور سے بھی نکاح نہیں کیا اور اب آپ دوبارہ اپنے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں، تو اب آپ پر لازم ہے کہ تجدید نکاح یعنی دوبارہ نکاح پڑھیں، تجدید نکاح کے بغیر رجوع نا جائز ہے۔ کیونکہ ایک طلاق بائن واقع ہوئی ہے اور طلاق بائن کی صورت میں تجدید نکاح ہوتا ہے۔ لہذا آپ فوری طور پر دوبارہ نکاح کر کے اکھٹے رہ سکتے ہیں، اور آئندہ ایسی جذباتی باتوں سے، لڑائی جھگڑوں سے پرہیز کریں۔ جس سے آپ کو بعد میں ندامت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑے، اس سے آپ دونوں کے ساتھ آپ کی اولاد پر بھی اثر پڑے گا اور وہ بھی پریشان ہونگی۔ لہذا سارے اختلافات بھلا کر از سر نو تجدید نکاح کر کے نئی زندگی کا آغاز کریں، اپنے اور اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو نئی زندگی مبارک کرے۔ آمین

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:حافظ محمد اشتیاق الازہری

Print Date : 13 November, 2019 10:59:29 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1319/