Fatwa Online

کیا مکان کی تعمیر کے لیے رکھی گئی رقم پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟ اگرچہ رقم نصاب زکوٰۃ تک پہنچتی ہو

سوال نمبر:1161

<p>میں زکوٰۃ ادائیگی کے بارے میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں بیرون ملک مقیم ایک طالب علم ہوں، میں نے کچھ پیسے بچائے ہوئے ہیں جو نصاب زکوٰۃ تک پہنچتے ہیں۔ تاہم میں نے وہ پیسے پاکستان کے اندر مقیم اپنے خاندان کے لئے بھیجنے ہیں۔ کیونکہ ہمارا ابھی تک کوئی ذاتی مکان نہیں ہے۔ </p> <p>میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس رقم پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی جو کسی مکان کی تعمیر کے سلسلے میں بچا کر رکھی گئی ہو؟</p>

سوال پوچھنے والے کا نام: حارث جاوید

  • مقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 17 ستمبر 2011ء

موضوع:زکوۃ

جواب:

جو رقم آپ نے مکان خریدنے کے لیے رکھی ہے یا کسی اور مقصد کے لیے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے، جب تک خرچ نہ ہو جائے، چونکہ آپ اس رقم کے مالک ہیں اور نصاب بھی پورا ہے، لہذا زکوٰۃ واجب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:صاحبزادہ بدر عالم جان

Print Date : 27 September, 2021 06:14:23 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/1161/