کیا جنازہ سے پہلے فاتحہ پڑھی جاسکتی ہے؟

سوال نمبر:960
بعض وجوہات کی وجہ سے بعض اوقات موت کے بعد جنازہ 3، 4 دن لیٹ ہوجاتا ہے جیسے ڈیڈ بوڈی ملک سے باہر ہے اور اسے اپنے ملک بھجوانے میں‌ دیر لگ جاتی ہے۔ کیا ایسی صورت میں جنازہ سے پہلے فاتحہ پڑھی جاسکتی ہے۔

  • سائل: محمد اکرممقام: تلہ گنگ
  • تاریخ اشاعت: 10 مئی 2011ء

زمرہ: نماز جنازہ

جواب:
فاتحہ یا دعا زندہ اور مردہ دونوں کے لیے بغیر کسی وقت کی قید کے جائز ہے۔ جنازہ سے پہلے بھی اور بعد میں بھی میت کے لیے فاتحہ پڑھی جاسکتی ہے۔

فقہاء کرام فرماتے ہیں : میت کو غسل دینے سے قبل اس کے پاس بیٹھ کر تلاوت قرآن مجید کرنا مکروہ ہے جبکہ غسل کے بعد مکروہ نہیں ہے۔

امام شامی فرماتے ہیں :

اذا کان قريبا منه اما اذا بَعُدَ عنه بالقراءة فلا کراهة.

(شامی، 2 : 194)

میت کے پاس بیٹھ کر قراءت کرنا مکروہ ہے، اگر دور ہو تو مکروہ نہیں ہے۔

لہذا مطلقا دعا کرنا ہر جگہ جائز ہے۔ فقط تلاوت قرآن میت کے پاس بیٹھ کر غسل سے پہلے کرنا مکروہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟