Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  Three Day Dawra Uloom-ul-Hadith by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri 
فتویٰ آن لائن - کیا علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے؟

کیا علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے؟

موضوع: عقائد  |  عقائد  |  عقائد  |  علم غیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

سوال نمبر 94:
کیا علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے؟

جواب:
جی ہاں! علم غیب عطا ہو کر بھی غیب ہی کہلاتا ہے کیونکہ قرآن حکیم کے مطابق اﷲ تعالیٰ نے جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعات کی خبر دی تو اس باب میں ارشاد فرمایا :

ذَلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ.

يوسف، 12 : 102

’’یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔‘‘

اس سے ثابت ہوا کہ علم غیب وحی کے ذریعے عطا ہونے کے بعد بھی قرآنی اصطلاح میں ’’غیب‘‘ ہی کہلاتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments