اللہ تعالیٰ مومن کو ایمان کے کن درجات سے نوازتا ہے؟

سوال نمبر:84
اللہ تعالیٰ مومن کو ایمان کے کن درجات سے نوازتا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 19 جنوری 2011ء

زمرہ: عقائد  |  ایمانیات

جواب:
وہ مومن جو اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لاتا ہے، اس کے تمام تقاضے پورے کرتا اور اس پر ثابت قدم رہتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ نہ صرف درجہ صدیقیت پر فائز کرتا ہے بلکہ اسے بغیر گردن کٹائے درجہ شہادت بھی عطا کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ ایمان کے اس درجے میں اللہ کی گواہی دینے والا اور اس پر شاہد بن جاتا ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :

أُوْلَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ.

الحديد، 57 : 19

’’وہی (خوش نصیب) اللہ کی جناب میں صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لئے (خصوصی) اجر اور ان کا (مخصوص) نور ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ اپنے لیے تقوی اختیار کرنے والوں اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت کے دو حصے عطا کرتا ہے اور انہیں ایسے نور سے بہرہ مند فرماتا ہے جس کی برکت سے ان کے لئے گمراہی ہدایت میں بدلتی چلی جائے گی اور قیامت کے دن بھی وہ نور ان کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے ہو گا جس کی روشنی میں وہ چلیں گے۔ جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ.

الحديد، 57 : 28

’’اے ایمان والو! اللہ کے لئے تقویٰ اختیار کر لو اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لے آؤ تو (اللہ تعالیٰ) تمہیں اپنی

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟