Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعا میں بعض الفاظ کا اضافہ کیا جاسکتا ہے؟

کیا اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعا میں بعض الفاظ کا اضافہ کیا جاسکتا ہے؟

موضوع: شفاعت   |  درود و سلام   |  آذان

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد فاروق       مقام: پاکستان

سوال نمبر 818:
اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعا میں بعض الفاظ کا اضافہ کیا جاتا ہے جو کہ حدیث مبارکہ میں نہیں ہیں۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:

اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعا تمام مستند و معتبر کتب حدیث میں مذکور ہے۔ ’صحیح بخاری‘ ، ’جامع ترمذی‘ اور دیگر کتبِ حدیث میں اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعا کے بارے میں روایت اِس طرح وارِد ہوئی ہے :

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اﷲ عليه وآله وسلم قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: ﴿اَللَّهُمَّ، رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا الَّذِي وَعَدْتَهُ﴾، حَلَّتْ لَه شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب الأذان، باب الدعاء عند النداء، 1: 222، رقم : 589
2. بخاری، الصحيح، کتاب تفسير القرآن، باب قوله: عسی أن يبعثک ربک مقاما محمودا، 4: 1749، رقم : 4442
3. ترمذی، السنن، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الدعاء عند الأذان، 1: 146، رقم : 529
4. نسائی، السنن، کتاب الأذان والسنة فيه، باب ما يقال إذا أذن المؤذن، 1: 239، رقم : 722
5. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 354، رقم : 14859

’’حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اذان سن کر یہ دعا کرے: (اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں مقام محمود پر مبعوث فرما۔) تو اس کے لیے قیامت کے روز میری شفاعت واجب ہوگئی۔ ‘‘

’صحیح مسلم‘ اور بعض دیگر کتب حدیث میں اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعا کے بارے میں یہ حدیث مبارکہ منقول ہے :

عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي اﷲ عنهما أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلی اﷲ عليه وآله وسلم يَقُولُ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوْلُوْا مِثْلَ مَا يَقُوْلُ، ثُمَّ صَلُّوْا عَلَيَّ فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّی عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّی اﷲُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا، ثُمَّ سَلُوا اﷲَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ لَا تَنْبَغِي إِلَّا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اﷲِ، وَأَرْجُو أَنْ أَکُوْنَ أَنَا هُوَ، فَمَنْ سَأَلَ لِيَ الْوَسِيْلَةَ حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ.

1. مسلم، الصحيح، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذن لمن سمعه ثم يصلي علی النبي ثم يسأل اﷲ له الوسيلة، 1:288، رقم : 384
2. ترمذی، السنن، أبواب المناقب، باب في فضل النبي، 5: 586، رقم : 3614
3. أبو داود، السنن، کتاب الصلاة، باب ما يقول إذا سمع المؤذن، 1: 144، رقم : 523
4. نسائی، السنن، کتاب الأذان، باب الصلاة علی النبي بعد الأذان، 2: 25، رقم : 678
5. أحمد بن حنبل، المسند، 2: 168، رقم : 6568
6. ابن خزيمة، الصحيح، 1: 218، رقم : 418
7. ابن حبان، الصحيح، 4: 588، 590، رقم: 1690، 1692

’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو اُسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو۔ پس جو شخص بھی مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو، بے شک وسیلہ جنت میں ایک منزل ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک کوملے گی اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا۔ پس جس نے اس وسیلہ کو میرے لیے طلب کیا اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔‘‘

ان دونوں روایات کو سامنے رکھیں تو تصور خود بخود واضح ہوجائے گا اور اِشکال رفع ہوتا چلا جائے گا۔ پہلی حدیث مبارکہ میں صرف ﴿اَللَّهُمَّ، رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُوْدًا الَّذِي وَعَدْتَهُ﴾ کے الفاظ وارِد ہوئے ہیں، جب کہ دوسری میں یہ حکم بھی آیا ہے کہ اذان کے بعد درود شریف پڑھا جائے۔ لیکن دونوں روایات میں ایک پہلو مشترک ہے اور وہ یہ کہ دونوں کے آخر میں سائل کے لیے حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت واجب ہونے کی خوش خبری سنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء و اَئمہ کرام نے اذان کے بعد مانگی جانے والی دعا کے آخر میں سائل کے لیے حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت مانگے جانے کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے اور اذان کے بعد یہ دعا اِس طرح پڑھی جاتی ہے : اَللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِه الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَآئِمَةِ، اٰتِ مُحَمَّدَنِ الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيْلَةَ، وَالدَّرَجَةَ الرَّفِيْعَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَاماً مَّحْمُوْدَنِ الَّذِي وَعَدْتَّه، وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ. ’’اے اللہ! اس کامل دعوت اور قائم ہونے والی نماز کے رب! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت اور بلند درجہ عطا فرما، اور آپ کو اُس مقام محمود پر فائز فرما جس کا تو نے آپ سے وعدہ فرمایا ہے، اور ہمیں روزِ قیامت آپ کی شفاعت سے بہرہ مند فرما۔ بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ ‘‘

یعنی آخر میں وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَه يَوْمَ الْقِيَامَةِ کے الفاظ لائے گئے ہیں کیوں کہ اوپر بیان کی گئی دونوں روایات میں بالترتیب حَلَّتْ لَه شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ (اس کے لیے قیامت کے روز میری شفاعت واجب ہوگئی) اور حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ (اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی) کے الفاظ آئے ہیں۔

امام طبرانی نے اپنی دو کتب میں اذان کے بعد مانگی جانے والی جو دعا نقل کی ہے، اس دعا کے آخر میں یہ الفاظ منقول ہیں :

وَاجْعَلْنَا فِی شِفَاعَتِه يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

1. طبرانی، المعجم الأوسط، 4: 79، رقم : 3662
2. طبرانی، المعجم الکبير، 12: 85، رقم : 12544

’’اور (اے پرورد گار!) ہمیں روزِ قیامت آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی شفاعت نصیب فرما۔‘‘

لہٰذا ثابت ہوگیا کہ اَئمہ کرام کی طرف سے وَارْزُقْنَا شَفَاعَتَه کے الفاظ کا اِضافہ کیے جانے میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلکہ متعدد احادیث کو جمع کرکے ایک جامع دعا ترتیب دی تو یہ بالکل جائز اور بلا شک و شبہ حدیث مبارکہ پر عمل کرنا ہے۔ ملا علی قاری ’مرقاۃ المفاتیح‘ میں لکھتے ہیں کہ دعائیہ کلمات میں اِضافہ کرنا جائز ہے (جس طرح بعض لوگ حج کے موقع پر تلبیہ میں اضافہ کر لیتے ہیں)۔

لہٰذا اس بحث کی روشنی میں ہم اذان کے بعد اِضافہ شدہ الفاظ کے ساتھ مروّجہ دعا پڑھ سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-03-24


Your Comments