Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - داڑھی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

داڑھی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

موضوع: داڑھی کی شرعی حیثیت

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد حسین خان       مقام: ہندوستان، ممبئی

سوال نمبر 778:
میرا سوال آپ سے ہے کی داڑھی کتنی ہونی چاہیے بہت سے عالم کہتے ہے کی ایک مشت رکھو ٹھوڈی کے نیچے سے شروع کرو، بعض کہتے ہیں ہونٹ کے نیچے سے ایک مشت رکھو، بعض کہتے ہیں دور سے نظر آنی چاہیے اتنی رکھو اور بعض کہتے ہیں جتنی نیچے جائے جانے دو کاٹنا حرام ہے، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟ میں نے سنا ہے داڑھی کو معافی دو اس سے کیا مرد ہے؟

جواب:

داڑھی مشت بھر رکھنا سنت موکدہ قریب الواجب ہے اس سے زائد میں اختیار ہے رکھیں یا نہ رکھیں۔ داڑھی باوقار اور خوبصورت ہو اس صورت میں مشت بھر سے بڑھانے کی آپ کو اجازت ہے، سنت واجب نہیں ہے اگر زیادہ بڑی اچھی نہ لگے تو کاٹ دیں تاکہ کوئی اس کے متعلق گھٹیا تصور نہ کرے اور بے ادبی نہ ہو۔

واعفو اللّحیٰ

(بخاری، 2 : 875)

اور داڑھیاں چھوڑ دو یا بڑھاؤ۔

داڑھی کو معافی دو۔ اوپر والی حدیث سے پتہ چلا کہ اس کا مطلب داڑھی بڑھاؤ یا چھوڑ دو ہے۔ تو مطلقاً داڑھی رکھنا واجب اور مقدار مشت سنت ہے اسطرح داڑھی سنوارنا، لمبائی و چوڑائی میں کچھ کٹوانا سنت ہے تاکہ داڑھی خوبصورت ہو۔ مشت بھر سےکم نہ ہو ہونٹ کے نیچے سے مشت بھر رکھنا جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-03-14


Your Comments