کیا ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے؟

سوال نمبر:60
کیا ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 19 جنوری 2011ء

زمرہ: ایمانیات

جواب:

ایمان تجزی یعنی جزئیات کو قبول نہیں کرتا، اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی بلکہ اعمال صالحہ اور خیر و تقویٰ سے ایمان کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ اعمالِ بد اور شر و فساد سے ایمان ضعف یعنی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ درج ذیل آیات سے واضح ہوتا ہے کہ مومنین کا ایمان اعمالِ صالحہ سے قوت پاتا ہے :

سورۃ آل عمران میں ارشاد ربانی ہے :

الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُO

آل عمران، 3 : 183

’’(یہ) وہ لوگ (ہیں) جن سے لوگوں نے کہا کہ مخالف لوگ تمہارے مقابلے کے لئے (بڑی کثرت سے) جمع ہو چکے ہیں۔ سو ان سے ڈرو۔ تو (اس بات نے) ان کے ایمان کو اور بڑھا دیا اور وہ کہنے لگے ہمیں اللہ کافی ہے، اور وہ کیا اچھا کارساز ہے۔‘‘

اسی طرح سورۃ الانفال میں ارشاد ہوتا ہے کہ :

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَO الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَO أُوْلَـئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُمْ دَرَجَاتٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌO

انفال، 8 : 2 - 4

’’ایمان والے (تو) صرف وہی لوگ ہیں کہ جب (انکے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو) ان کے دل (اس کی عظمت و جلال کے تصور سے) خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ (کلام محبوب کی لذت انگیز اور حلاوت آفریں باتیں) ان کے ایمان میں زیادتی کر دیتی ہیں۔ اور وہ (ہر حال میں) اپنے رب پر توکل (قائم) رکھتے ہیں (اور کسی غیر کی طرف نہیں تکتے) (یہ) وہ لوگ ہیں جو نماز قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے، اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ (حقیقت میں) یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لئے ان کے رب کی بارگاہ میں (بڑے) درجات ہیں اور مغفرت اور بلند درجہ رزق ہے۔‘‘

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کا اقرار کرے اور اس کے دل میں جَو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو تو اسے دوزخ سے ضرور آزاد کیا جائے گا۔ اور جو شخص لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہے اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر (بھی) ایمان ہو تو اسے بھی دوزخ سے نکالا جائے گا۔ اور جس نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھ لیا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی نیکی ہو تو اسے (بھی) دوزخ سے نکالا جائے گا، حتی کہ جس شخص نے زندگی میں صرف ایک مرتبہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا ہو گا اسے بھی بالآخر جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔

بخاري، الصحيح، زيادة الايمان و نقصانه، 1 : 24، رقم : 44

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟