اگر ورثاء میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں تو وراثت کی تقسیم کیا ہوگی؟

سوال نمبر:5945
ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کا باپ کی وراثت میں شرعی اور قانونی لحاظ سے کتنا ہوگا؟

  • سائل: محمد آصف منانمقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 19 جنوری 2021ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے۔

النساء، 4: 11

اگر ورثاء میں صرف ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں تو مرحوم کے کُل قابلِ تقسیم ترکہ کے چار برابر حصے بنا کر ہر بیٹی کو ایک ایک اور بیٹے کو دو حصے ملیں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟