روزہ کی حالت میں غیبت کرنا، جھوٹ بولنا اور فحش کلامی کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:571
روزہ کی حالت میں غیبت کرنا، جھوٹ بولنا اور فحش کلامی کرنا کیسا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 11 فروری 2011ء

زمرہ: عبادات  |  روزہ

جواب:

:  شرع کی رو سے روزہ کی حالت میں غیبت، جھوٹ، فحش کلامی کسی طور بھی جائز نہیں، کیونکہ اس کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے۔ روزہ فرض کرنے کا مقصد صرف روزہ دار کا بھوکا، پیاسا رہنا کافی نہیں ہے بلکہ دنیاوی لذتوں کی خواہشات اور برے اعمال مثلا جھوٹ بولنا، فحش کلامی کرنا اور غیبت سے بچنا بھی ضروری ہے۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث مبارکہ سے ثابت ہیں۔

1۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

’’اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا (روزہ رکھ کر) نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو اسکی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا، پینا، چھوڑ دے۔‘‘

 بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب من لم يدع قول الزور والعمل به فی الصوم، 2 :  673، رقم :  1804

2۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک دن روزہ رکھیں اور جب تک میں اجازت نہ دوں اس وقت تک کوئی روزہ افطار نہ کرے۔ لوگوں نے روزہ رکھ۔ جب شام ہوئی تو ایک شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کی :  میں سارے دن روزے سے رہا ہوں، آپ مجھے افطار کی اجازت دیں، آپ نے اس کو افطار کی اجازت مرحمت فرمائی۔ پھر ایک شخص حاضر ہو۔ اور اس نے عرض کیا آپ کے گھر کی دو کنیزیں صبح سے روزے سے ہیں، آپ انہیں بھی افطار کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے اعراض کی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمای :  ان کا روزہ نہیں ہے، ان لوگوں کا روزہ کیسے ہوسکتا ہے؟ جو سارا دن لوگوں کا گوشت کھاتے رہے ہوں، جاؤ انہیں جاکر کہو اگر وہ روزہ دار ہیں تو قے کریں، انہوںنے قے کی تو ہر ایک سے جما ہوا خون نکل۔ اس شخص نے جاکر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :  اگر وہ مرجاتیں اور وہ جما ہوا خون ان میں باقی رہ جاتا تو دونوں کو دوزخ کی آگ کھاتی۔

 طيالسی، المسند، 1 :  282، رقم :  2107

3۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ل فرماتا ہے :

’’ابن آدم کا روزے کے سوا ہر عمل اس کے اپنے لئے ہے روزہ بالخصوص میرے لئے ہے۔ اس کی جزا میں ہی دوں گا اور روزہ ڈھال ہے، جب تم میں سے کسی شخص کا روزہ ہو، تو وہ بے ہودہ گوئی کرے نہ فحش گوئی کرے۔ اگر کوئی شخص اسے گالی دے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں۔‘‘

 بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب هل يقول إنی صائم إذا شتم، 2 :  673، رقم :  1805

پس مذکورہ بالا احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ روزہ کی حالت میں جھوٹ بولنا، غیبت کرنا اور فحش کلامی کرنا ممنوع ہے۔ ان امورِ رذیلہ سے اس لے ممانعت کی گئی کہ ان سے روزہ رکھنے کا مقصد ختم ہو جاتا ہے اور روزہ دار، روزہ کے برکات و ثمرات سے محروم رہتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟