کیا شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

سوال نمبر:5635
کیا شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ اس بارے میں سنن ابی داود میں حدیث بھی ہے کہ جو اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ تک لے جاے وہ وضو کرے۔ اس کی وضاحت کر دیں۔

  • سائل: احسن علیمقام: گوجرانوالہ
  • تاریخ اشاعت: 18 اکتوبر 2019ء

زمرہ: وضوء

جواب:

شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے‘ دونوں کی احادیث وارد ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عروہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا:

دخلت على مروان بن الحكم فذكرنا ما يكون منه الوضوء، فقال مروان: ومن مس الذكر؟ فقال عروة: ما علمت ذلك. فقال مروان: اخبرتني بسرة بنت صفوان انها سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: ’من مس ذكره فليتوضا‘.

میں مروان بن حکم کے پاس گیا اور ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ مروان نے کہا: اور عضو تناسل کو چھونے کا کیا حکم ہے؟ اس پر عروہ نے کہا: مجھے یہ معلوم نہیں۔ مروان کہنے لگا: مجھے بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’جو اپنا عضو تناسل چھوئے وہ وضو کرے‘۔

‏‏‏سنن الترمذی، الطهارة، 61: 82

جبکہ قیس بن طلق رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے ستر کو ہاتھ لگانے پر وضو کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

هَلْ هُوَ إِلا بِضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ.

وہ بھی تو تمہارے جسم کا ایک ٹکڑا ہے۔

مالک، الموطا، جلد: اول، رقم الحدیث: 13

اسی طرح عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے شرمگاہ کے نماز کے اندر چھولینے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

مَا أُبَالِي مَسَسْتُهُ أَوْ مَسَسْتُ أَنْفِي.

میں اپنے ستر کو چھونے اور ناک کو چھونے میں فرق نہیں سمجھتا۔

مالک، الموطا، جلد: اول، رقم الحدیث: 14

صحیح ابن حبان میں سیدنا ابوہریرہ ضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إذا أفضى أحدكم بيده إلى فرجه، وليس بينهما ستر ولا حجاب، فليتوضأ.

تم میں کسی کا ہاتھ اس کی شرمگاہ کو لگے اور (ہاتھ اور شرمگاہ کے ) درمیان میں کوئی ستر و حجاب نہ ہو یعنی ہاتھ براہ راست شرمگاہ کو مس کرے تو اسے چاہیئے کہ وضو کرے۔

ذخیرہ احادیث میں شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے دونوں طرح کی احادیث موجود ہونے کے سبب اس مسئلہ میں اہل علم کے ہاں اختلاف ہے۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہما شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کے قائل ہیں۔ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک شرمگاہ کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، جبکہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی طرف منسوب قول کے مطابق شرمگاہ کا چھونا اگر شہوت کے ساتھ ہو تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر شہوت کے بغیر ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔ کچھ علماء شرمگاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹنے کے قائل تو نہیں تاہم وہ دوبارہ وضو کرنے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔

بہرحال آئمہ احناف کے نزدیک محض شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ جن احادیث میں شرمگاہ کو ہاتھ لگانے کے بعد وضو کرنے کا ذکر ہے اس سے وہ لغوی وضو یعنی ہاتھ دھونا مراد لیتے ہیں۔ فتاوی شامی میں ہے:

(لا) ينقضه (مس ذكر) لكن يغسل يده ندباً.

عضو تناسل کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا لیکن ایسا کرنے کے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے۔

ابن عابدین شامی، رد المحتار على الدر المختار، 1: 147

لہٰذا شرمگاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، حدیث میں وضو کا حکم یا تو استحباب کے طور پر ہے یا لغوی وضو یعنی ہاتھ دھونے پر محمول ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟