اگر میت کے ورثاء میں صرف تین بہنیں ہوں تو وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

سوال نمبر:5574
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت و الجماعت اس مسئلہ میں کہ بیوی کا انتقال ہوا، اس کے ورثاء میں شوہر، تین بیٹیاں اور ایک لڑکا تھا- بیوی کے بعد  اس کے شوہر کا انتقال ہوا اور اس کے ورثاء میں تین بیٹیاں اور ایک لڑکا تھا۔ ان میں سے لڑکیوں کی شادی ہوگئی تھی، ان کی اولاد بھی ہے، لیکن لڑکا شادی سے پہلے انتقال کر گیا- تو اب ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

  • سائل: گل حسنمقام: رام پور، ہندوستان
  • تاریخ اشاعت: 04 اکتوبر 2019ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

صورتِ مسئلہ میں تین میتوں کی وراثت تقسیم کی جانی ہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:

میت نمبر 1:

سائل کے بقول سب سے پہلے بیوی کا انتقال ہوا جس کے ورثاء میں شوہر، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا، اس کے ترکہ کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل قابلِ تقسیم ترکہ میں سے شوہر کو چوتھا حصہ ملے گا، جیسا کہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

اور تمہارے لئے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر ان کی کوئی اولاد ہو تو تمہارے لئے ان کے ترکہ سے چوتھائی ہے (یہ بھی) اس وصیت (کے پورا کرنے) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض (کی ادائیگی) کے بعد۔

النساء، 4: 12

شوہر کا حصہ نکالنے کے بعد بقیہ مال کے کل پانچ حصے بنائے جائیں گے جن میں سے بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصے ملے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے۔

النساء، 4: 11

میت نمبر 2:

والد کی وفات کے بعد ورثاء میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل تھے۔ مذکورہ آیات کی رو سے مرحوم کے کل قابلِ تقسیم ترکہ کے پانچ حصے بنائے جائیں گے جن میں سے دو حصے بیٹے کو اور ہر بیٹی کو ایک ایک حصہ مل جائے گا۔

میت نمبر 3:

جب لڑکا فوت ہوا تو اس کے ورثاء میں اس کی تین بہنیں تھیں، اس کے کل قابلِ تقسیم ترکہ میں سے دو تہائی (2/3) حصہ تینوں بہنوں میں برابر تقسیم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّهَا وَلَدٌ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِن كَانُواْ إِخْوَةً رِّجَالاً وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللّهُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ وَاللّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌO

لوگ آپ سے فتویٰ (یعنی شرعی حکم) دریافت کرتے ہیں۔ فرما دیجئے کہ اﷲ تمہیں (بغیر اولاد اور بغیر والدین کے فوت ہونے والے) کلالہ (کی وراثت) کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص فوت ہو جائے جو بے اولاد ہو مگر اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لئے اس (مال) کا آدھا (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور (اگر اس کے برعکس بہن کلالہ ہو تو اس کے مرنے کی صورت میں اس کا) بھائی اس (بہن) کا وارث (کامل) ہوگا اگر اس (بہن) کی کوئی اولاد نہ ہو، پھر اگر (کلالہ بھائی کی موت پر) دو (بہنیں وارث) ہوں تو ان کے لئے اس (مال) کا دو تہائی (حصہ) ہے جو اس نے چھوڑا ہے، اور اگر (بصورتِ کلالہ مرحوم کے) چند بھائی بہن مرد (بھی) اور عورتیں (بھی وارث) ہوں تو پھر (ہر) ایک مرد کا (حصہ) دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہوگا۔ (یہ احکام) اﷲ تمہارے لئے کھول کر بیان فرما رہا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو، اور اﷲ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

النساء، 4: 176

چونکہ ورثاء تین بہنیں تھیں اس لیے یہ کل ترکہ کے 66 فیصد میں سے برابر حصے پائیں گی، بقیہ 34 فیصد عصبہ یعنی مرحوم کے چچا یا چچا کی (مذکر) اولاد کو ملے گا، اگر مرحوم کا کوئی چچا یا چچا کی اولاد بھی نہیں ہے تو یہ 34 فیصد بھی تینوں بہنوں میں برابر تقسیم ہو جائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری


اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟