لغوی اور شرعی اعتبار سے روزہ سے کیا مراد ہے؟

سوال نمبر:555
لغوی اور شرعی اعتبار سے روزہ سے کیا مراد ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 11 فروری 2011ء

زمرہ: روزہ  |  عبادات

جواب:

:  روزہ کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں۔ صوم کا لغوی معنی رکنے کے ہیں شرع کی رو سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور عمل مباشرت سے رک جانے کا نام روزہ ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم سے ثابت ہے :

وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَنَ لَکُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ۔

 البقرة، 2 :  187

’’(روزہ رکھنے کے لئے سحری کے وقت) اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے) سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر) نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد) تک پورا کرو۔‘‘

سفید دھاگے سے مراد صبح صادق (دن کی سفیدی) ہے اور سیاہ دھاگے سے مراد صبح کاذب (رات کی تاریکی) ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟