برادری (ذات) معلوم نہ ہونے پر خود کو کس قوم کی طرف منسوب کیا جائے؟

سوال نمبر:5299
السلام علیکم! مفتی صاحب سے میرا سوال یہ ہے کہ مجھے میری ذات نہیں پتا۔ والد صاحب کو بھی نہیں پتا۔ رشتے دار کوئی کہتا ہے آپ فلاں ہو کوئی کہتا ہے آپ فلاں ہو۔ سمجھ نہیں آرہی کہ اب ذات کیا لکھوں۔ مفتی صاحب سے گزارش ہے کہ قرآن اور حدیث سے دلیل دے کر رہنمائی فرمائیں ؟ پتا ہونے کے باوجود نسب بدلنا کبیرہ گناہ ہے۔ آپ کے ہی فتوی سے پڑھا ہے۔

  • سائل: محمد سلیمانمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 23 اپریل 2019ء

زمرہ: معاشرت

جواب:

ہمارے سماج میں موجود ذات پات کے نظام کی بنیاد قوم و قبیلہ نہیں بلکہ مختلف پیشے ہیں، جن کی ابتداء جاگیردارانہ نظام میں ہوئی۔ صدیوں پہلے یہ سماج دو طبقوں میں بٹا ہوا تھا‘ ایک طرف جاگیردار طبقہ تھا جسے اس کی جائیداد نے سب کچھ بخشا ہوا تھا جبکہ دوسری طرف محنت کشوں کا طبقہ تھا جو گزر بسر کے لیے محنت و مزدوری کرتا۔ یوں ہر محنت کش اور مزدور کسی پیشے سے وابستہ ہوتا گیا، رفتہ رفتہ باپ کا پیشہ بیٹے نے اپنا لیا اور وہ پیشہ یا ہنراس کنبے کا ذریعہ روزگار بننے کے ساتھ ذات میں بھی بدل گیا۔ نائی، چمار، لوہار، کمہار، درزی، دھوبی، جولاہا اور سنار یہ تمام پیشے ہیں‘ جن کی بنیاد قوم و قبیلہ پر نہیں بلکہ ہنر، فن، کسب معاش اور کاروبار پر ہے۔ دنیا کے دیگر معاشروں میں قوم و قبیلہ کا تصور اس سے مختلف ہے، ایک مورثِ اعلیٰ کا خاندان یا نسل جو ممیز ہو قبیلہ کہلاتی ہے۔ مثال کے طور پر حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے، اسی طرح قریشی، ہاشمی، اموی، تمیمی وغیرہ ایک مورثِ اعلیٰ کی اولاد ہونے پر الگ الگ قبائل تصور کیے جاتے تھے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌO

اے لوگو! ہم نے تمہیں مرد اور عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمہیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم) کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک اﷲ کے نزدیک تم میں زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہو، بیشک اﷲ خوب جاننے والا خوب خبر رکھنے والا ہے۔

الْحُجُرَات، 49: 13

ذات پات اور قوم قبیلہ انسان کی پہچان کے لیے ہوتا ہے‘ اس کا معلوم ہونا کوئی شرعی تقاضا نہیں بلکہ یہ ایک سماجی ضرورت ہے۔ اگر کسی کو اس کی ذات یا قبیلہ کا علم نہیں ہے اس کا نام و پتہ اور پیشہ بھی اس کی پہچان بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور قوم و قبیلہ کی کوئی حیثیت نہیں۔ اللہ کے ہاں تقویٰ و پرہیزگاری ہی عزت کا باعث ہے‘ قوم و قبیلہ اور نسل نہیں۔ نسب بدلنے سے متعلق جس حدیثِ مبارکہ کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے اس میں خود کو کسی دوسرے مورثِ اعلیٰ کی طرف منسوب کرنا ہے‘ پیشوں کی بنیاد پر قائم پہچان بدلنا نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟