کیا عدالتی تنسیخِ نکاح‌ کے بعد رجوع ہوسکتا ہے؟

سوال نمبر:5168
زید کی بیوی نے فیملی کورٹ سے تنسیخ نکاح کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔ اب وہ دوبارہ بحیثیت میاں بیوی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بتایا جائے کہ کیا وہ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں؟ (نیز شوہر نے عدالتی ڈگری کے علاوہ بیوی کو زبانی یا تحریری طلاق کا لفظ نہیں کہا)۔

  • سائل: چوہدری محمد رمضانمقام: مظفرآباد
  • تاریخ اشاعت: 16 اپریل 2019ء

زمرہ: فسخِ نکاح

جواب:

اگر اس ڈگری کے علاوہ زید نے اپنی بیوی کو کبھی زبانی یا تحریری طلاق نہیں دی ہے تو عدالتی فیصلے سے ان کی طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے۔ اب اگر زید اور اس کی بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ازدواجی رشتہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو دوبارہ نکاح کر کے بطور میاں بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ اس عدالتی فیصلے کو ایک طلاق شمار کیا جائے گا اور نئے نکاح کے بعد زید کے پاس طلاق کے دو حق رہ جائیں گے۔

عدالتی طلاق کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: خلع اور تنسیخ نکاح سے کونسی طلاق واقع ہوتی ہے؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟