کیا بغیر داڑھی والا شخص اذان و اقامت کہہ سکتا ہے؟

سوال نمبر:5089
السلام علیکم! کیا بغیر داڑھی والا شخص اذان و تکبیر کہہ سکتا ہے؟ اگر کہے تو نماز ہو جائے گی؟

  • سائل: محمد سلیم خالقمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 16 اکتوبر 2018ء

زمرہ: داڑھی کی شرعی حیثیت  |  آذان

جواب:

بغیر داڑھی والا شخص اذان و تکبیر کہہ سکتا ہے اور اگر موجود افراد اس کی قتداء پر متفق ہوں تو امامت بھی کر سکتا ہے۔ کسی آیت و روایت میں‌ داڑھی کو اذان و اقامت یا امامت کی شرط قرار نہیں دیا گیا۔ اگر بغیر داڑھی والا شخص اذان و اقامت کہے یا امامت کرے تو نماز ہو جائے گی۔ تاہم مطلقاً داڑھی رکھنا سنتِ مؤکدہ اور شعائرِ اسلام میں‌ سے ہے اس لیے داڑھی مونڈنے کے عمل کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ عموماً داڑھی مونڈے مؤذن، مَکَبِّر یا امام کو مقتدی برضا و رغبت پسند نہیں کرتے جس کی وجہ سے جھگڑے اور مسائل جنم لیتے ہیں‘ لہٰذا اذان و قامت یا امامت کے متمنی شخص کو داڑھی رکھنی چاہیئے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟