تکفیری روش اختیار کرنے کے متعلق اسلام کیا کہتا ہے؟

سوال نمبر:4826
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! حضور ایک سوال ارسال کررہا ہوں قوی امید ہے کہ جواب سے نوازیں گے۔ ایک شخص کچھ علمائے کرام‘ جو کہ سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہیں‘ کو بلا وجہ اور بغیر دلیلِ شرعی کے غیرسنی کہتا ہے اور کافر بھی قرار دیتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہیکہ بلاوجہ کسی سنی صحیح العقیدہ مسلمان کو کافر کہنا کیسا ہے؟ ایسا کرنے والے کے بارے میں‌ حکمِ شرعی کیا ہے؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔

  • سائل: محمد بلال برکاتیمقام: سنسری، نیپال
  • تاریخ اشاعت: 24 اپریل 2018ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

تکفیریت کی اسی روش نے امت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، ہماری وحدت پارہ پارہ ہو گئی ہے، ہمارا اقبال ختم ہو چکا ہے، ہمارا علمی وقار مجروح ہو چکا ہے، ہم دوسری قوموں کے مقابل عزت و عظمت اور طاقت و شوکت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اسی غیر ذمہ وارانہ طرزِ عمل کی نزاکت کو پیش نظر رکھ کر نبیء غیب دان نے ہمیں اس روش سے بچنے کی تلقین فرمائی کہ جب ایک مسلمان دوسرے کو بغیر ثبوتِ شرعی کے محض دشمنی و مخالفت یا غرور و تکبر کی بنا پر کافر کہتا ہے تو یہ کلمہ اس شخص پر چسپاں ہونے کے لئے جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ کافر نہیں مسلمان ہوتا ہے تو کہنے والے پر واپس آکر چسپاں ہو جاتا ہے۔ جیسے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِأَخِیهِ یَا کَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا.

جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی سے کہے، اے کافر! تو ایک ان میں سے کافر ہوتا ہے۔

بخاري، الصحیح، کتاب الأدب، باب من أکفر أخاه بغیر تأویل فهو کما قال، 5: 2263، رقم: 5752، بیروت، لبنان: دار ابن کثیر الیمامة

یہی روایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان الفاظ سے بیان کی ہے:

أَیُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِیهِ یَا کَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا.

جو شخص بھی اپنے مسلمان بھائی سے اے کافر کہے تو وہ کفر ان میں سے ایک کی طرف ضرور لوٹے گا۔

امام مسلم کی روایت میں درج ذیل الفاظ کا اضافہ ہے:

إِنْ کَانَ کَمَا قَالَ وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَیْهِ.

اگر وہ شخص واقعی کافر ہو گیا تھا تو ٹھیک ہے ورنہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔

مسلم، الصحیح، کتاب الإیمان، باب بیان حال إیمان من قال لأخیه المسلم یا کافر، 1: 79، رقم: 60، بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربي

علامہ بدر الدین محمود بن احمد العینی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

لِأَنَّہُ إِنْ کَانَ صَادِقًا فِي نَفْسٍ الْأَمْرِ فَالْمَقُوْلُ لَہُ کَافِر، وَإِنْ کَانَ کَاذِبًا فَالْقَائِلُ کَافِرٌ لِأَنَّہُ حَکَمَ بِکَوْنِ الْمُؤمِنُ کَافِرًا أَوِ الْإِیمَانِ کُفْرًا.

اس لئے کہ کافر کہنے والا حقیقت میں سچا ہے تو اس کی بات ٹھیک کہ دوسرا شخص کافر ہے اور اگر جھوٹا ہے تو کہنے والا کافر ہو گیا کہ اس نے مومن پر کفر کا حکم لگایا ہے یا ایمان کو کفر کہا۔

عیني، عمدة القاري، 22: 157، بیروت: دار احیاء التراث العربي

ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ دوسروں پر تکفیر کے فتوے لگانے والا خود اپنا ایمان بھی کھو بیٹھتا ہے۔ اس لیے مذکورہ شخص کو درج بالا فرامینِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگاہ کریں۔ اگر وہ باز نہیں آتا اور فتنہ و فساد جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟