کیا اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر کہنا درست ہے؟

سوال نمبر:4776
کیا اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر بول سکتے ہیں؟

  • سائل: محمد امینمقام: راجھستان، ہندوستان
  • تاریخ اشاعت: 22 مارچ 2018ء

زمرہ: ایمان باللہ

جواب:

حاضر و ناظر کا معنیٰ ہے ’موجود‘ اور ’دیکھنے والا‘۔ اصطلاحاً اس سے مراد وہ ذات ہے جو ہر جگہ موجود ہے، جہاں بھی اسے پکارا جائے وہ پکار سنتی ہے، ہر حالت کو دیکھ رہی ہے اور حاجت روائی کرتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں جنہیں خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

وَاللّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ.

اور اﷲ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔

آل عِمْرَان، 3: 20

سورہ نبی اسرائیل، سورہ فرقان، سورہ فاطر اور سورہ فتح میں فرمایا:

إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا.

بیشک وہ اپنے بندوں (کے اعمال و احوال) کی خوب خبر رکھنے والا خوب دیکھنے والا ہے۔

بَنِيْ إِسْرَآءِيْل، 17: 30

سورہ النساء میں فرمایا:

 إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا.

بیشک اللہ ہر چیز کا مشاہدہ فرمانے والا ہے.

النساء، 4: 33

سورہ حدید میں فرمایا:

وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ.

وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے تم جہاں کہیں بھی ہو، اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو (اسے) خوب دیکھنے والا ہے۔

الْحَدِيْد، 57: 4

قرآنِ مجید میں اس مضمون کی بیسیوں آیات موجود ہیں، اختصار کی خاطر چند آیات پیش کی ہیں۔ ان آیات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، لوگ زور کی آواز سے تکبیر کہنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

انکم تدعون سمیعا بصیرا وهو معکم والذی تدعونه اقرب الی احدکم من عنق راحلته. متفق علیه

تم تو اس خدا کو پکارتے ہو جو سننے والا دیکھنے والا ہے اور جو تمہارے ساتھ ہے اورتم سے تمہارے اونٹ کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے۔

حضرت عبد اللہ بن معاویہ عامری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ  یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کسی شخص کا اپنے نفس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ تو رسول اللہ نے فرمایا:

ان یعلم ان الله معه حیثما.

اس بات کا یقین ہو کہ انسان جس جگہ بھی ہو اللہ اسکے ساتھ ہے۔

البزاز، المسند، حدیث: 507

درج بالا آیات و روایات سے واضح ہوا کہ حاضر و ناظر ہونا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، وہ ہر جگہ اپنے شان کے مطابق حاضر و ناظر ہے۔ ایسا کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟