Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - خواب میں‌ سیلاب دیکھنے کی کیا تعبیر ہے؟

خواب میں‌ سیلاب دیکھنے کی کیا تعبیر ہے؟

موضوع: خواب اور بشارات

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد ظہیر اعوان       مقام: لاہور پاکستان

سوال نمبر 4552:
ابھی 45۔1 رات میری آنکھ کھلی۔ میں نے خواب دیکھا کہ میں لاہور کے کسی علاقہ میں پیدل چل رہا ہوں کہ اچانک سیلاب آجاتا ہے جس نے مجھے بھی گھیر لیا ہے اور کچھ سمجھ نہیں آرہی کہ میں کہاں جا رہا ہوں کافی دیر بعد میں نے ایک طرف اپنا رخ کیا تو میں اپنی گاوں والی زمینوں کے پاس جا کر نکلا ہوں گھر پہنچنے پر بڑے بھائی سو رہے تھے جبکہ اماں جاگ رہی تھی۔ برائے مہربانی تعبیر بتا یں۔ جزاک اللہ

جواب:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب کی اقسام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

الرويا ثلاث فالرويا الحسنة بشري من اﷲ عزوجل والرويا يحدث بها الرجل نفسه والرويا تحزين من الشيطن.

خواب تین طرح کے ہوتے ہیں، سچا و نیک خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہوتا ہے، دوسری قسم آدمی اپنے نفس سے ہی گفتگو کرے، تیسری قسم شیطان کی طرف سے ڈرانا ہے۔

حاکم، المستدرک، 4 : 422، رقم : 8174

نیک خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے خوشخبری اور بشارت ہوتا ہے، برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، تیسرا تحدیث النفس، منتشر الخیالی جیسے آپ نے دیکھا کہ لاہور کے کسی علاقہ میں پیدل چل رہے ہیں کہ اچانک سیلاب آجاتا ہے، آپ نے رخ تبدیل کیا تو گاؤں میں پہنچ گئے، اس قسم کے اوٹ پٹانگ خوابوں کو منتشر الخیالی کہتے ہیں، ان کی کوئی تاویل یا تعبیر نہیں ہوتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-11-27


Your Comments