Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟

بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد مدثر رضوی       مقام: راجکوٹ، انڈیا

سوال نمبر 4523:
بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟

جواب:

دنیا کا تسلیم شدہ اصول ہے کہ ابتدائی، حقیقی اور اصل زَر (Currency) سونا و چاندی ہیں۔ زر کی دوسری شکل کاغذی زَر (Paper Currency) ہے جو بذاتِ خود مال نہیں ہے بلکہ اس میں جو مالیت پائی جاتی ہے وہ ملک کی اقتصادیات ہے کیونکہ ملکی اقتصادی ترقی و تنزلی کا اثر فوری طور پر کرنسی کی قدر (Value) پر پڑتا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کرنسی کی قدر کی ضمانت ملک کا مرکزی یا کرنسی جاری کرنے والا بینک دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب کوئی ملک اپنی کوئی کرنسی بند کرتا ہے تو کرنسی محض کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتی ہے۔ زَر کی ایک تیسری صورت جو عصرِ حاضر میں سامنے آئی ہے وہ ڈیجیٹل کرنسی (Digital Currency) ہے۔ یہ کرنسی کسی خاص مرکز (حکومت یا سٹیٹ) کے تابع یا ملکیت نہیں ہے بلکہ اس کی حیثیت ایک آزادانہ اور خودمختار زر کی ہے جو براہ راست عوام کی ملکیت ہے۔ یہ سکے یا کاغذی نوٹ کی بجائے کمپیوٹر سرور پر محفوظ ہے جس کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا عمل انٹرنیٹ یا کسی ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے اسے مجازی یا غیرحسی (Cryptocurrency/Virtual Currency) کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی کی ایک شکل بٹ کوئن (Bitcoin) ہے۔

بٹ کوئن کیونکہ ایک فرضی کرنسی ہے اس لیے اس کا استعمال بہت سارے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی منظم ادارہ یا حکومت نہیں ہے اس کی مارکیٹ میں طلب و رسد کا درست اور بر وقت اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی حقیقی مالیت بھی صحیح طریقے سے معلوم نہیں ہو سکتی۔ کچھ ممالک میں بٹ کوئن سمیت دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے، اس لیے جن ممالک میں قانوناً ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے معاملات طے کرنا ممنوع نہیں وہاں شرعاً بھی اس کے استعمال میں حرج نہیں، البتہ جہاں یہ قانوناً ممنوع یا غیرتسلیم شدہ ہے (جیسے کہ پاکستان) وہاں اس کے ذریعے معاملات انجام دینے اور ٹریڈنگ سے احتراز کرنا ضروری ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-11-17


Your Comments