کیا غیرمسلم کے ساتھ کھانا جائز ہے؟

سوال نمبر:4442
میرا سوال یہ ہے کہ میں ہانگ کانگ میں رہتا ہوں اور جس جگہ کام کرتا ہوں وہ غیر مسلم ہیں اور ہماری کھانا کھانے اور آرام کرنے کی جگہ ایک ہے تو جس اوون میں وہ کھانا گرم کرتے ہیں ہم بھی کر سکتے ہیں اور جس بنچ پر وہ کھاتے ہیں وہاں بیٹھ کے کھا سکتے ہیں؟

  • سائل: نعمانمقام: ہانگ کانگ
  • تاریخ اشاعت: 03 اکتوبر 2017ء

زمرہ: خور و نوش

جواب:

ایک مسلمان کے لیے غیرمسلم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، غیرمسلم کے ہاتھ سے منگوایا ہوا اور پکویا ہوا کھانا بھی جائز ہے، بشرطیکہ کھانا شرعاً حلال ہو۔ اس میں غیرمسلم کتابی (یہودی اور مسیحی) یا غیرکتابی (ہندو، سکھ، بدھ، جین اور دھریے وغیرہ) کا کوئی فرق نہیں۔ البتہ ایسے غیرمسلم جو اہلِ کتاب میں سے نہ ہو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا جائز نہیں ہے۔کیونکہ غیراہلِ کتاب ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے اس لیے ان کا ذبیحہ حرام ہے۔

کسی بھی غیرمسلم کے استعمال شدہ برتن دُھلنے کے بعد مسلمان کے لیے قابلِ استعمال ہوتے ہیں۔ غیرمسلم کا جوٹھا کھانے کی مختلف صورتیں ہیں: ایک صورت یہ ہے کہ حرام کھانے جن کو کھانا ہمارے لیے جائز نہیں، وہ کسی بھی صورت میں نہیں کھائے جائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر غیرمسلم حلال کھانا کھا رہا ہو تو باوقار طریقے سے اس کے ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟