Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا غیرمسلم کے ساتھ کھانا جائز ہے؟

کیا غیرمسلم کے ساتھ کھانا جائز ہے؟

موضوع: کھانے کے آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: نعمان       مقام: ہانگ کانگ

سوال نمبر 4442:
میرا سوال یہ ہے کہ میں ہانگ کانگ میں رہتا ہوں اور جس جگہ کام کرتا ہوں وہ غیر مسلم ہیں اور ہماری کھانا کھانے اور آرام کرنے کی جگہ ایک ہے تو جس اوون میں وہ کھانا گرم کرتے ہیں ہم بھی کر سکتے ہیں اور جس بنچ پر وہ کھاتے ہیں وہاں بیٹھ کے کھا سکتے ہیں؟

جواب:

ایک مسلمان کے لیے غیرمسلم کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، غیرمسلم کے ہاتھ سے منگوایا ہوا اور پکویا ہوا کھانا بھی جائز ہے، بشرطیکہ کھانا شرعاً حلال ہو۔ اس میں غیرمسلم کتابی (یہودی اور مسیحی) یا غیرکتابی (ہندو، سکھ، بدھ، جین اور دھریے وغیرہ) کا کوئی فرق نہیں۔ البتہ ایسے غیرمسلم جو اہلِ کتاب میں سے نہ ہو اس کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا جائز نہیں ہے۔کیونکہ غیراہلِ کتاب ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیتے اس لیے ان کا ذبیحہ حرام ہے۔

کسی بھی غیرمسلم کے استعمال شدہ برتن دُھلنے کے بعد مسلمان کے لیے قابلِ استعمال ہوتے ہیں۔ غیرمسلم کا جوٹھا کھانے کی مختلف صورتیں ہیں: ایک صورت یہ ہے کہ حرام کھانے جن کو کھانا ہمارے لیے جائز نہیں، وہ کسی بھی صورت میں نہیں کھائے جائیں گے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر غیرمسلم حلال کھانا کھا رہا ہو تو باوقار طریقے سے اس کے ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-10-03


Your Comments