Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا فاریکس کا کام کرنا جائز ہے؟

کیا فاریکس کا کام کرنا جائز ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  خریدو فروخت (بیع و شراء، تجارت)

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عمران       مقام: ملائشیا

سوال نمبر 4403:
السلام علیکم مفتی صاحب! میں آن لائن ٹریڈنگ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں۔ فاریکس اور اس جیسے دوسری ویب سائٹ پہ آن لائن ٹریڈنگ کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے؟ جبکہ اس میں نفع و نقصان دونوں ہوتے ہیں۔

جواب:

فاریکس ٹریڈنگ یعنی ایک ملک کی کرنسی کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ دوسرے ملک کی کرنسی کی خرید و فرخت جائز ہے۔ عام طور پر آن لائن ٹریڈنگ میں خرید و فرخت صرف زبانی جمع خرچ یا ہوائی باتیں ہی ہوتی ہیں۔ اس کی بجائے اگر خرید و فرخت کا حقیقی وجود ہو یعنی مَبِیع (خریدی ہوئی یا فروخت شدہ چیز) اور ثمن (قیمت) کے تعیّن کے ساتھ بائِع (فروخت کرنے والا) اور مُشتری (خریدنے والے) کی ملکیت بھی ثابت ہو تو یہ تجارت حقیقی وجود رکھتی ہے۔ ایسی تجارت خواہ عام طریقہ سے کی جائے یا اکاؤنٹس کے ذریعے جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

تاریخ اشاعت: 2017-09-19


Your Comments