Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  Three Day Dawra Uloom-ul-Hadith by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri 
فتویٰ آن لائن - کیا قربانی کے بڑے جانور میں پانچ برابر حصے کیے جاسکتے ہیں؟

کیا قربانی کے بڑے جانور میں پانچ برابر حصے کیے جاسکتے ہیں؟

موضوع: قربانی   |  قربانی کے جانور

سوال پوچھنے والے کا نام: حماد مصطفی قادری       مقام: لاہور پاکستان

سوال نمبر 4361:
السلام علیکم! کیا قربانی کے بڑے جانوروں کے حصوں میں سات سے کم لوگ شریک ہو سکتے ہیں؟ یعنی جیسےزیادہ سے زیادہ تو سات کی اجازت ہے تو کیا کم سے کم کا بھی کوئی حکم ہے؟ایک عالم دین نے کہا ہے کہ اگر سات سے کم لوگ جیسے پانج لوگ ملکر قربانی کریں گے تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہو گی۔برائے مہربانی وضاحت فرما دیں۔

جواب:

بڑے جانوروں گائے، بھینس اور اونٹ میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہوسکتے ہیں۔اگر شرکاء سات سے کم ہوں تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ ایک حصہ مزید حصوں میں تقسیم نہیں ہوگا۔ جس طرح ایک بکرا قربان کرنے سے ایک ہی فرد کی طرف سے قربانی ادا ہوتی ہے اسی طرح بڑے جانور کے ایک حصے سے ایک فرد کا واجب ادا ہوتا ہے۔ بڑے جانور میں اگر پانچ لوگ شریک ہیں اور چار لوگ ایک ایک حصہ ڈال رہے ہیں اور پانچواں تین حصے ملا رہا ہے تو یہ جائز ہے۔ ایسا نہیں‌ ہونا چاہیے کہ پانچوں برابر پیسے دیں اور پانچ برابر حصوں میں گوشت تقسیم کر لیں۔ اگر ایسا کیا گیا تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی۔ مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے:

کیا قربانی کے جانور گائے میں سے 6 حصے ہو سکتے ہیں؟

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-08-28


Your Comments