مسجد کا لاؤڈ سپیکر چیک کرنے کے لیے مقدس کلمات دُہرانا کیسا ہے؟

سوال نمبر:4330
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! عرض ہے کہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر بگڑنے پر جب اسکو چیک کیا جاتا ہے تو اسوقت *※سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر※* یا پھر قرآنی آیات وغیرہ پڑھی جاتی ہے تو کیا اس طرح لاؤڈ اسپیکر چیک کرنے کیلئے یہ سب پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا جوابا شافیا توجروا اجراوافیا

  • سائل: محمد سہیل بن مولانا یوسف بڈھا قاسمیمقام: گودھرا، گجرات، انڈیا
  • تاریخ اشاعت: 17 اگست 2017ء

زمرہ: جدید فقہی مسائل

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اﷲَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًاo

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرا کرو اور صحیح اور سیدھی بات کہا کرو۔

الاحزاب، 33: 70

اور حدیث مبارکہ میں بھی صاحب ایمان کو اچھی بات کہنے کی ترغیب دی گئی ہے یا پھر خاموش رہنے کو ترجیح دی گئی ہے۔ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم مَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْیَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَـلَا يُؤْذِ جَارَهُ وَمَنْ کَانَ يُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُکْرِمْ ضَيْفَهُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور جو اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے تو اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔

  1. بخاري، الصحيح، 5: 2376، رقم: 6110، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، 1: 68، رقم: 47، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

مذکورہ بالا نصوص کی رو سے اہلِ ایمان کے لیے اچھی اور سیدھی بات کہنے میں بہتری ہے۔ مسجد کا لاؤڈسپیکر چیک کرنے کے لیے مقدس کلمات دہرانے سے بہتر کیا ہوسکتا ہے؟ ہمارے نزدیک ایسا کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ کارِ ثواب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟