Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

موضوع: معاشرتی آداب

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد یامین مصطفوی       مقام: ملتان

سوال نمبر 4314:
سوال: محبتِ وطن کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا وطن سے محبت کرنا جائز ہے؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں مدلّل حکم درکار ہے۔ نیز اس حوالے سے پائے جانے والے اِشکالات کا اِزالہ بھی مطلوب ہے۔

جواب:

جواب: انسان کیا حیوان بھی جس سر زمین میں پیدا ہوتا ہے، اُس سے محبت و اُنس اس کی فطرت میں ہوتی ہے۔ چرند، پرند، درند حتیٰ کہ چیونٹی جیسی چھوٹی بڑی کسی چیز کو لے لیجئے، ہر ایک کے دل میں اپنے مسکن اور وطن سے بے پناہ اُنس ہوتا ہے۔ ہر جاندار صبح سویرے اٹھ کر روزی پانی کی تلاش میں زمین میں گھوم پھر کر شام ڈھلتے ہی اپنے ٹھکانے پر واپس آجاتا ہے۔ ان بے عقل حیوانات کو کس نے بتایا کہ ان کا ایک گھر ہے، ماں باپ اور اولاد ہے، کوئی خاندان ہے؟ اپنے گھر کے در و دیوار، زمین اور ماحول سے صرف حضرتِ انسان کو ہی نہیں بلکہ حیوانات کو بھی اُلفت و محبت ہوجاتی ہے۔

قرآن کریم اور سنّتِ مقدسہ میںاس حقیقت کو شرح و بسط سے بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں ہم اِس حوالے سے چند نظائر پیش کرتے ہیں تاکہ نفسِ مسئلہ بخوبی واضح ہوسکے۔

محبتِ وطن: قرآن کی روشنی میں:

1۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل کو اپنی مقبوضہ سرزمین میں داخل ہونے اور قابض ظالموں سے اپنا وطن آزاد کروانے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

يٰـقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ کَتَبَ اﷲُ لَکُمْ وَلَا تَرْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِکُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِيْنَo

(المائدة، 5: 21)

اے میری قوم! (ملک شام یا بیت المقدس کی) اس مقدس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اﷲ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے اور اپنی پشت پر (پیچھے) نہ پلٹنا ورنہ تم نقصان اٹھانے والے بن کر پلٹو گے۔

2۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا شہر مکہ کو امن کا گہوارہ بنانے کی دعا کرنا درحقیقت اس حرمت والے شہر سے محبت کی علامت ہے۔ قرآن فرماتا ہے:

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَo

(إبراهيم، 14: 35)

اور (یاد کیجیے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا: اے میرے رب! اس شہر (مکہ) کو جائے امن بنا دے اور مجھے اور میرے بچوں کو اس (بات) سے بچا لے کہ ہم بتوں کی پرستش کریں۔

3۔ اپنی اولاد کو مکہ مکرمہ میں چھوڑنے کا مقصد بھی اپنے محبوب شہر کی آبادکاری تھا۔ انہوں نے بارگاهِ اِلٰہ میں عرض کیا:

رَبَّنَآ اِنِّيْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِکَ الْمُحَرَّمِلا رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْيُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّيُمْ يَشْکُرُوْنَo

(إبراهيم، 14: 37)

اے ہمارے رب! بے شک میں نے اپنی اولاد (اسماعیل علیہ السلام) کو (مکہ کی) بے آب و گیاہ وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسا دیا ہے، اے ہمارے رب! تاکہ وہ نماز قائم رکھیں پس تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ وہ شوق و محبت کے ساتھ ان کی طرف مائل رہیں اور انہیں (ہر طرح کے) پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ شکر بجا لاتے رہیں۔

4۔ سورہ توبہ کی درج ذیل آیت میں مَسٰکِن سے مراد مکانات بھی ہیں اور وطن بھی ہے:

قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِيْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَهَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْکُمْ مِّنَ اﷲِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهِ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی يَاْتِيَ اﷲُ بِاَمْرِهِط وَاﷲُ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَo

(التوبة، 9: 24)

(اے نبی مکرم!) آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ (دادا) اور تمہارے بیٹے (بیٹیاں) اور تمہارے بھائی (بہنیں) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے (دیگر) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے (محنت سے) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ (عذاب) لے آئے، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا۔

اﷲ تعالیٰ نے یہاں محبتِ وطن کی نفی نہیں فرمائی صرف وطن کی محبت کو اﷲ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جہاد پر ترجیح دینے سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا اِس آیت سے بھی وطن سے محبت کا شرعی جواز ملتا ہے۔

5۔ اسی طرح درج ذیل آیت مبارکہ میں وطن سے ناحق نکالے جانے والوں کو دفاعی جنگ لڑنے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی ہے:

اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰـتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْاط وَاِنَّ اﷲَ عَلٰی نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُo نِالَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّآ اَنْ يََّقُوْلُوْا رَبُّنَا اﷲُ.

(الحج، 22: 39-40)

ان لوگوں کو (فتنہ و فساد اور اِستحصال کے خلاف دفاعی جنگ کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جارہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بے شک اﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہے۔ (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)۔

6۔ اِسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل جب اپنی کرتوتوں کے باعث ذلت و غلامی کے طوق پہنے بے وطن ہوئے تو ٹھوکریں کھانے کے بعد اپنے نبی یوشع یا شمعون یا سموئیل علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لئے کوئی حاکم یا کمانڈر مقرر کر دیں جس کے ماتحت ہو کے ہم اپنے دشمنوں سے جہاد کریں اور اپنا وطن آزاد کروائیں۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا: ایسا تو نہیں ہوگا کہ تم پر جہاد فرض کردیا جائے اور تم نہ لڑو؟ اِس پر وہ کہنے لگے:

مَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اﷲِ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَاَبْنَـآئِنَاط فَلَمَّا کُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَ لَّوْا اِلَّا قَلِيْلاً مِّنْهُمْط وَاﷲُ عَلِيْمٌم بِالظّٰلِمِيْنَo

(البقرة، 2: 246)

ہمیں کیا ہوا ہے کہ ہم اﷲ کی راہ میں جنگ نہ کریں حالاں کہ ہمیں اپنے وطن اور اولاد سے جدا کر دیا گیا ہے، سو جب ان پر (ظلم و جارحیت کے خلاف) قتال فرض کر دیا گیا تو ان میں سے چند ایک کے سوا سب پھر گئے، اور اﷲ ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔

مذکورہ بالا آیت میں وطن اور اولاد کی جدائی کروانے والوں کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔

7۔ اسی طرح درج ذیل آیت مبارکہ میں اﷲ تعالیٰ نے دیگر نعمتوں کے ساتھ مسلمانوں کو آزاد وطن ملنے پر شکر بجا لانے کی ترغیب دلائی ہے:

وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰکُمْ وَاَيَّدَکُمْ بِنَصْرِهِ وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَo

(الأنفال، 8: 26)

اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم (مکی زندگی میں عدداً) تھوڑے (یعنی اقلیّت میں) تھے ملک میں دبے ہوئے تھے (یعنی معاشی طور پر کمزور اور استحصال زدہ تھے) تم اس بات سے (بھی) خوفزدہ رہتے تھے کہ (طاقتور) لوگ تمہیں اچک لیں گے (یعنی سماجی طور پر بھی تمہیں آزادی اور تحفظ حاصل نہ تھا) پس (ہجرت مدینہ کے بعد) اس (اللہ) نے تمہیں (آزاد اور محفوظ) ٹھکانا (وطن) عطا فرما دیا اور (اسلامی حکومت و اقتدار کی صورت میں) تمہیں اپنی مدد سے قوت بخش دی اور (مواخات، اموالِ غنیمت اور آزاد معیشت کے ذریعے) تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی عطا فرما دی تاکہ تم (اللہ کی بھرپور بندگی کے ذریعے اس کا) شکر بجا لا سکو۔

درج بالا میں مذکور سات آیاتِ قرآنیہ سے وطن کے ساتھ محبت کرنے، وطن کی خاطر ہجرت کرنے اور وطن کی خاطر قربان ہونے کا شرعی جواز ثابت ہوتا ہے۔

محبتِ وطن: احادیث مبارکہ کی روشنی میں:

احادیث مبارکہ میں بھی اپنے وطن سے محبت کی واضح نظائر ملتی ہیں، جن سے محبتِ وطن کی مشروعیت اور جواز کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔

1۔ حدیث، تفسیر، سیرت اور تاریخ کی تقریبا ہر کتاب میں یہ واقعہ مذکور ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نزولِ وحی کا سلسلہ شروع ہوا تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ ورقہ بن نوفل نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نزولِ وحی کی تفصیلات سن کر تین باتیں عرض کیں:

  1. آپ کی تکذیب کی جائے گی یعنی آپ کی قوم آپ کو جھٹلائے گی
  2. آپ کو اذیت دی جائے گی اور
  3. آپ کو اپنے وطن سے نکال دیا جائے گا۔

اِس طرح ورقہ بن نوفل نے بتایا کہ اعلانِ نبوت کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی قوم کی طرف سے کن کن مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

امام سہیلی نے الروض الأنف میں باقاعدہ یہ عنوان باندھا ہے: حُبُّ الرَّسُوْلِ صلی الله عليه وآله وسلم وَطْنَهُ (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے وطن کے لیے محبت)۔ اس عنوان کے تحت امام سہیلی لکھتے ہیں کہ جب ورقہ بن نوفل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کرے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاموشی فرمائی۔ ثانیاً جب اس نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف و اذیت میں مبتلا کرے گی تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ نہ کہا۔ تیسری بات جب اس نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے وطن سے نکال دیا جائے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فورا فرمایا:

أَوَ مُخْرِجِيَّ؟

کیا وہ مجھے میرے وطن سے نکال دیں گے؟

یہ بیان کرنے کے بعد امام سہیلی لکھتے ہیں:

فَفِيْ هٰذَا دَلِيْلٌ عَلٰی حُبِّ الْوَطَنِ وَشِدَّةِ مُفَارَقَتِهِ عَلَی النَّفْسِ.

اِس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے وطن سے شدید محبت پر دلیل ہے اور یہ کہ اپنے وطن سے جدائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنی شاق تھی۔

(الروض الأنف للسهيلی، 1: 413-414، طرح التثريب فی شرح التقريب للعراقی، 4: 185)

اور وطن بھی وہ متبرک مقام کہ اﷲ تعالیٰ کا حرم اور اس کا گھر پڑوس ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محترم والد حضرت اسماعیل علیہ السلام کا شہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی دونوں باتوں پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں فرمایا لیکن جب وطن سے نکالے جانے کا تذکرہ آیا تو فورا فرمایا کہ کیا میرے دشمن مجھے یہاں سے نکال دیں گے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سوال بھی بہت بلیغ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الف اِستفہامیہ کے بعد واؤؔ کو ذکر فرمایا اور پھر نکالے جانے کو مختص فرمایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واؤؔ سابقہ کلام کو ردّ کرنے کے لیے آتی ہے اور مخاطب کو یہ شعور دلاتی ہے کہ یہ اِستفہام اِنکار کی جہت سے ہے یا اِس وجہ سے ہے کہ اُسے دکھ اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ گویا اپنے وطن سے نکالے جانے کی خبر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے زیادہ شاق گزری تھی۔

امام زین الدین العراقی نے بھی یہ سارا واقعہ اپنی کتاب ’طرح التثریب فی شرح التقریب (4: 185)‘ میں بیان کرتے ہوئے وطن سے محبت کی مشروعیت کو ثابت کیا ہے۔

2۔ یہی وجہ ہے کہ ہجرت کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ مکرمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

مَا أَطْيَبَکِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّکِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُوْنِي مِنْکِ مَا سَکَنْتُ غَيْرَکِ.

(سنن الترمذی، 5: 723، رقم: 3926، صحيح ابن حبان، 9: 23، رقم: 3709، المعجم الکبير للطبرانی، 10: 270، رقم: 10633)

تُو کتنا پاکیزہ شہر ہے اور مجھے کتنا محبوب ہے! اگر میری قوم تجھ سے نکلنے پر مجھے مجبور نہ کرتی تو میں تیرے سوا کہیں اور سکونت اختیار نہ کرتا۔

یہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحتاً اپنے آبائی وطن مکہ مکرمہ سے محبت کا ذکر فرمایا ہے۔

3۔ اِسی طرح سفر سے واپسی پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے وطن میں داخل ہونے کے لئے سواری کو تیز کرنا بھی وطن سے محبت کی ایک عمدہ مثال ہے۔ گویا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وطن کی محبت میں اتنے سرشار ہوتے کہ اس میں داخل ہونے کے لیے جلدی فرماتے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

إِنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَنَظَرَ إِلٰی جُدُرَاتِ الْمَدِيْنَةِ، أَوْضَعَ رَاحِلَتَهِ، وَإِنْ کَانَ عَلٰی دَابَّةٍ، حَرَّکَهَا مِنْ حُبِّهَا.

(صحيح البخاري، 2: 666، رقم: 1787، مسند أحمد بن حنبل، 3: 159، رقم: 12644، سنن الترمذي، 5: 499، رقم: 3441)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ منورہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کر دیتے، اور اگر دوسرے جانور پر سوار ہوتے تو مدینہ منورہ کی محبت میں اُسے ایڑی مار کر تیز بھگاتے تھے۔

اِس حدیث مبارک میں صراحتاً مذکور ہے کہ اپنے وطن مدینہ منورہ کی محبت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سواری کی رفتار تیز کردیتے تھے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے:

وَفِی الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلٰی فَضْلِ الْمَدِينَةِ، وَعَلٰی مَشْرُوعِيَةِ حُبِّ الْوَطَنِ وَالْحَنِيْنِ إِلَيْهِ.

(فتح الباری، 3: 621)

یہ حدیث مبارک مدینہ منورہ کی فضیلت، وطن سے محبت کی مشروعیت و جواز اور اس کے لیے مشتاق ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

4۔ ایک اور روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا رہوں۔ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُحد پہاڑ نظر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

هٰذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ.

یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔

اس کے بعد اپنے دستِ مبارک سے مدینہ منورہ کی جانب اشارہ کر کے فرمایا:

اللّٰهُمَّ! إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا کَتَحْرِيمِ إِبْرَاهِيمَ مَکَّةَ. اللّٰهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا.

(صحيح البخاري، 3: 1058، رقم: 2732، صحيح مسلم، 2: 993، رقم: 1365)

اے اللہ! میں اس کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان والی جگہ کو حرم بناتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا تھا۔ اے اللہ! ہمیں ہمارے صاع اور ہمارے مُدّ میں برکت عطا فرما۔

یہ اور اس جیسی متعدد احادیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے وطن مدینہ منورہ کی خیرو برکت کے لیے دعا کرتے جو اپنے وطن سے محبت کی واضح دلیل ہے۔

5۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ پہلا پھل دیکھتے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے قبول کرنے کے بعد دعا کرتے: اے اللہ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما۔ ہمارے (وطن) مدینہ میں برکت عطا فرما۔ ہمارے صاع میں اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔ اور مزید عرض کرتے:

اللّٰهُمَّّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُکَ وَخَلِيلُکَ وَنَبِيُکَ، وَإِنِّي عَبْدُکَ وَنَبِيُکَ وَإِنَّهُ دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوکَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ.

(صحيح مسلم، 2: 1000، رقم: 1373)

اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔ انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے دعا کی تھی۔ میں ان کی دعائوں کے برابر اور اس سے ایک مثل زائد مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں (یعنی مدینہ میں مکہ سے دوگنا برکتیں نازل فرما)۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چھوٹے بچے کو بلا کر وہ پھل دے دیتے۔

6۔ وطن سے محبت کا ایک اور انداز یہ بھی ہے کہ حضور نبی اکرمa نے فرمایا کہ وطن کی مٹی بزرگوں کے لعاب اور رب تعالیٰ کے حکم سے بیماروں کو شفا دیتی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:

إِنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَقُولُ لِلْمَرِيضِ: بِسْمِ اﷲِ تُرْبَهُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفٰی سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا.

(صحيح البخاري، 5: 2168، رقم: 5413، صحيح مسلم، 4: 1724، رقم: 2194)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض سے فرمایا کرتے تھے: اﷲ کے نام سے شروع، ہماری زمین (وطن) کی مٹی ہم میں سے بعض کے لعاب سے ہمارے بیمار کو، ہمارے رب کے حکم سے شفا دیتی ہے۔

7۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ کوئی شخص مکہ مکرمہ سے آیا اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کہ مکہ کے حالات کیسے ہیں؟ جواب میں اُس شخص نے مکہ مکرمہ کے فضائل بیان کرنا شروع کیے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چشمانِ مقدسہ آنسؤوں سے تر ہوگئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لَا تُشَوِّقْنَا يَا فُلَانُ.

اے فلاں! ہمارا اِشتیاق نہ بڑھا۔

جب کہ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے فرمایا:

دَعِ الْقُلُوْبَ تَقِرُّ.

(شرح الزرقانی علی الموطا، 4: 288، السيرة الحلبية، 2: 283)

دلوں کو اِستقرار پکڑنے دو (یعنی اِنہیں دوبارہ مکہ کی یاد دلا کر مضطرب نہ کرو)۔

اِزالۂ اِشکال

وطن سے محبت کے حوالے سے ایک اِشکال کا اِزالہ بھی اَز حد ضروری ہے۔ اِس ضمن میں بالعموم ایک روایت quote کی جاتی ہے جس کے الفاظ کچھ یوں ہیں:

حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ.

وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔

حالاں کہ یہ حدیثِ نبوی نہیں ہے بلکہ من گھڑت (موضوع) روایت ہے۔

1۔ امام صغانی نے اسے ’الموضوعات (ص:53، رقم:81)‘ میں درج کیا ہے۔

2۔ امام سخاوی نے ’المقاصد الحسنۃ (ص:297)‘ میں لکھا ہے:

لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ، وَمَعْنَاهُ صَحِيْحٌ.

میں نے اس پر کوئی اطلاع نہیں پائی اگرچہ معناً یہ کلام درست ہے (کہ وطن سے محبت رکھنا جائز ہے)۔

3۔ ملا علی القاری نے ’المصنوع (ص:91، رقم:106)‘ میں لکھا ہے کہ حفاظِ حدیث کے ہاں اِس قول کی کوئی اَصل نہیں ہے۔

4۔ ملا علی القاری نے ہی اپنی دوسری کتاب ’الأسرار المرفوعۃ في أخبار الموضوعۃ (ص:180، رقم:164)‘ میں لکھا ہے:

قَالَ الزَّرْکَشِيُّ: لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ.

امام زرکشی کہتے ہیں: میں نے اِس پر کوئی اِطلاع نہیں پائی ہے۔

وَقَالَ السَّيِّدُ مُعِيْنُ الدِّيْنِ الصَّفَوِيُّ: لَيْسَ بِثَابِتٍ.

سید معین الدین صفوی کہتے ہیں: یہ ثابت نہیں ہے (یعنی بے بنیاد ہے)۔

وَقِيْلَ: إِنَّهُ مِنْ کَلَامِ بَعْضِ السَّلَفِ.

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سلف صالحین میں سے بعضوں کا قول ہے۔

5۔ اِسی لیے ملا علی القاری نے لکھا ہے:

إِنَّ حُُبُّ الْوَطَنِ لَا يُنَافِيَ الْإِيْمَانَ.

(الأسرار المرفوعة في أخبار الموضوعة:181، رقم:164)

وطن سے محبت ایمان کی نفی نہیں کرتی (یعنی اپنے وطن کے ساتھ محبت رکھنے سے بندہ دائرۂ ایمان سے خارج نہیں ہوجاتا)۔

6۔ علامہ زرقانی ’الموطا‘ کی شرح میں لکھتے ہیں:

وَأَخْرَجَ ابْنُ إِسْحَاقَ عَنِ الزُّهْرِیِّ، عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: أَصَابَتِ الْحُمَّی الصَّحَابَةَ حَتّٰی جَهِدُوا مَرَضًا.

ابن اِسحاق نے الزہری سے روایت کی ہے، انہوں نے حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ بخار نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دبوچ لیا یہاں تک کہ وہ بیماری کے سبب بہت لاغر ہوگئے۔

اس قول کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ زرقانی رقم طراز ہیں:

قَالَ السُّهَيْلِيُّ: وَفِي هٰذَا الْخَبَرِ وَمَا ذُکِرَ مِنْ حَنِينِهِمْ إِلٰی مَکَّةَ مَا جُبِلَتْ عَلَيْهِ النُّفُوسُ مِنْ حُبِّ الْوَطَنِ وَالْحَنِينِ إِلَيْهِ.

(شرح الزرقانی علی الموطا، 4: 287-288)

امام سہیلی فرماتے ہیں: اِس بیان میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مکہ مکرمہ سے والہانہ محبت اور اشتیاق کی خبر ہے کہ وطن کی محبت اور اس کی جانب اِشتیاق اِنسانی طبائع اور فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے (اور اِسی جدائی کے سبب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیمار ہوئے تھے)۔

7۔ قرآن حکیم کی سب سے معروف اور مسنتد لغت یعنی المفرادت کے مصنف امام راغب اصفہانی نے اپنی کتاب ’محاضرات الأدباء (2:652)‘ میں وطن کی محبت کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے۔ ان کی گفت گو کا خلاصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

لَولَا حُبُّ الْوَطَنِ لَخَرَبَتْ بِلَادُ السُّوْء. وَقِيْلَ: بِحُبِّ الْأَوْطَانِ عِمَارَةُ الْبُلْدَانِ.

اگر وطن کی محبت نہ ہوتی تو پسماندہ ممالک تباہ و برباد ہوجاتے (کہ لوگ انہیں چھوڑ کر دیگر اچھے ممالک میں جابستے، اور نتیجتاً وہ ممالک ویرانیوں کی تصویر بن جاتے)۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ اپنے وطنوں کی محبت سے ہی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی ہوتی ہے۔

8۔ اس کے بعد امام راغب اصفہانی حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب ایک شخص نے اپنا رزق کم ہونے کی شکایت کی تو حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے فرمایا:

لَوْ قَنَعَ النَّاسُ بِأَرْزَاقِهِمْ قُنُوْعَيُمْ بِأَوْطَانِهِمْ.

کاش! لوگ اپنے رِزق پر بھی ایسے ہی قانع ہوتے جیسے اپنے اَوطان (یعنی آبائی ملکوں) پر قناعت اختیار کیے رکھتے ہیں۔

9۔ اِسی طرح جب ایک دیہاتی شخص سے پوچھا گیا کہ وہ کس طرح دیہات کی سخت کوش اور جفاکشی و رِزق کی تنگی والی زندگی پر صبر کرلیتے ہیں تو اس نے جواب دیا:

لَولَا أَنَّ اﷲَ تَعَالٰی أَقْنَعَ بَعْضَ الْعِبَادِ بِشَرِّ الْبِلَادِ، مَا وَسِعَ خَيْرُ الْبِلَادِ جَمِيْعَ الْعِبَادِ.

اگر اﷲ تعالیٰ بعض لوگوں کو پسماندہ مقامات پر قائل نہ فرمائے تو ترقی یافتہ مقامات تمام لوگوں کے لیے تنگ پڑ جائیں۔

یعنی اگر سارے مقامی باشندے اپنے آبائی علاقوں کی پسماندگی و جہالت اور غربت و محرومیوں کے باعث ترقی یافتہ علاقوں کی طر ف ہجرت کرتے رہیں تو ایک وقت آئے گا کہ ترقی یافتہ علاقے بھی گوناگوں مسائل کا شکار ہوجائیں گے اور اپنے رہائشیوں کے لیے تنگ پڑ جائیں گے۔

10۔ اِس کے بعد امام راغب اصفہانی نے فَضْلُ مَحَبَّۃِ الْوَطَنِ (وطن سے محبت کی فضیلت) کے عنوان سے ایک الگ فصل قائم کرتے ہوئے لکھا ہے:

حُبُّ الْوَطَنِ مِنْ طِيْبِ الْمَوْلِدِ.

وطن کی محبت اچھی فطرت و جبلت کی نشانی ہے۔

مراد یہ ہے کہ عمدہ فطرت والے لوگ ہی اپنے وطن سے محبت کرتے اور اس کی خدمت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے وطن کی نیک نامی اور اَقوامِ عالم میں عروج و ترقی کا باعث بنتے ہیں نہ کہ ملک کے لیے بدنامی خرید کر اس پر دھبہ لگاتے ہیں۔

11۔ ابو عمرو بن العلاء نے کہا ہے:

مِمَّا يَدُلُّ عَلٰی کَرَمِ الرَّجُلِ وَطِيْبِ غَرِيْزَتِهِ حَنِيْنُهُ إِلٰی أَوْطَانِهِ وَحُبُّهُ مُتَقَدِّمِي إِخْوَانِهِ وَبُکَاؤُهُ عَلٰی مَا مَضٰی مِنْ زَمَانِهِ.

(محاضرات الأدباء للراغب الأصفهانی، 2: 652)

آدمی کے معزز ہونے اور اس کی جبلت کے پاکیزہ ہونے پر جو شے دلالت کرتی ہے وہ اس کا اپنے وطن کے لیے مشتاق ہونا اور اپنے دیرینہ تعلق داروں (یعنی اعزاء و اقربا، رفقاء و دوست احباب اور پڑوسی وغیرہ) سے محبت کرنا اور اپنے سابقہ زمانے (کے گناہوں اور معصیات) پر آہ زاری کرنا (اور ان کی مغفرت طلب کرنا) ہے۔

12۔ اِسی لیے بعض فلاسفہ کا کہنا ہے:

فِطْرَةُ الرَّجُلِ مَعْجُوْنَةٌ بِحُبِّ الْوَطَنِ.

(محاضرات الأدباء للراغب الأصفهانی، 2: 652)

فطرتِ اِنسان کو وطن کی محبت سے گوندھا گیا ہے (یعنی وطن کی محبت انسانی خمیر میں رکھ دی گئی ہے)۔

13۔ ابن خبیر الاشبیلی (م502ھ) نے ’الفھرسۃ (ص:343، رقم:1006)‘ میں لکھا ہے کہ دوسری تیسری صدی ہجری کے معروف امام ابو عثمان عمرو بن بحر الجاحظ (159-255ھ) نے وطن کی محبت پر ایک مکمل رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ہے: کتاب حب الوطن۔ ابن خبیر الاشبیلی (م502ھ) نے ’الفھرسۃ (ص:343، رقم:1006)‘ میں اس رسالے کی پوری سند کو بیان کیا ہے۔ 1982ھ میں یہ رسالہ لبنان کے دار الکتاب العربی سے الحنین إلی الأوطان کے عنوان سے طبع ہوچکا ہے۔ گویا مسلم محققین اوائل اِسلام سے ہی وطن سے محبت کے موضوع پر لکھتے آرہے ہیں۔

خلاصہ کلام

قرآن و حدیث اور تاریخ اِسلام کے درج بالا صریح دلائل سے معلوم ہوا کہ وطن سے محبت ایک مشروع اور جائز عمل ہے کیونکہ یہ ایک فطری اور لازم امر ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری سورۃ التوبۃ کی آیت نمبر 24 کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اس آیت مبارکہ میں چھ طرح کی دنیاوی محبتوں کا بیان ہے: (1) اولاد کی والدین سے محبت (2) والدین کی اولاد سے محبت (3) بیوی کی محبت (4) رشتہ داروں کی محبت (5) نوکری، کاروبار اور تجارت کی محبت (6) گھروں اور وطن کی محبت۔ اگر یہ ساری محبتیں مل کر یعنی ان محبتوں کا total aggregate اور سب شدتیں مل کر اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جہاد کی محبت سے بڑھ جائیں، اﷲ کے دین کی محبت سے بڑھ جائیں تو پھر اپنے انجام کا انتظار کرنا چاہیے۔ یہ ایک categorical declaration ہے۔ لیکن اگر یہ تمام دنیاوی محبتیں اپنی limit میں ہیں اور غالب محبت اﷲ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی ہے تو یہ ساری محبتیں بھی اُسی لافانی محبت کے تابع ہوجاتی ہیں۔ [محبت کے حوالے سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا تفصیلی مضمون اگست 2017ء کے ’دخترانِ اِسلام‘ میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔]

لہٰذا ہمیں جان لینا چاہیے کہ وطن سے محبت کے بغیر کوئی قوم آزادانہ طور پر عزت و وقار کی زندگی گزار سکتی ہے نہ اپنے وطن کو دشمن قوتوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ جس قوم کے دل میں وطن کی محبت نہیں رہتی پھر اُس کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے اور وہ قوم اور ملک پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔ وطن سے محبت ہرگز خلافِ اِسلام نہیں ہے اور نہ ہی یہ ملتِ واحدہ کے تصور کے منافی ہے، کیونکہ ملتِ واحدہ کا تصور سرحدوں کا پابند نہیں ہے بلکہ یہ اَفکار و خیالات کی یک جہتی اور اِتحاد کا تقاضا کرتا ہے۔ مصورِ پاکستان نے کیا خوب فرمایا ہے:

جہانِ تازہ کی اَفکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

ہمیں اپنے وطنِ عزیز سے ٹوٹ کر محبت کرنی چاہیے اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ وطن سے محبت صرف جذبات اور نعروں کی حد تک ہی نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہمارے گفتار اور کردار میں بھی اس کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ ہمیں ایسے عناصر کی بھی شناخت اور سرکوبی کے اقدامات کرنے چاہییں جو وطنِ عزیز کی بدنامی اور زوال کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے حکمرانوں سے بھی چھٹکارے کے لیے جد و جہد کرنی چاہیے جو وطنِ عزیز کو لوٹنے کے درپے ہیں اور آئے روز اس کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ ایسے حکمرانوں سے نجات دلانے کی سرگرمِ عمل ہونا چاہیے جو اپنے وطن سے زیادہ دوسروں کی وفاداری کا دم بھرتے ہیں اور وطنِ عزیز کی سلامتی کے درپے رہتے ہیں۔ معاشرے کے اَمن کو غارت کرنے والے عناصر کو ناسور سمجھ کر کیفرِ کردار تک پہنچانے میں اپنا بھرپور قومی کردار ادا کرنا چاہیے۔ وطن کا وقار، تحفظ، سلامتی اور بقا اِسی میں ہے کہ لوگوں کے جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ ہوں۔ وطن کی ترقی اور خوش حالی اسی میں ہے کہ ہمیشہ ملکی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جائے اور ہر سطح پر ہر طرح کی کرپشن اور بدعنوانی کا قلع قمع کیا جائے۔ معاشرے میں امن و امان کا راج ہو۔ ہر طرح کی ظلم و زیادتی سے خود کو بچائیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں۔ آج 2017ء میں آزادی کے ستر سال پورے ہونے پر پاکستان کے اِکہترویں (71st) یومِ آزادی کے موقع پر ہمیں خود اِحتسابی کی اَشد ضرورت ہے کہ ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے اب تک اپنے وطنِ عزیز کے لیے کیا کیا ہے؟ اس کی ترقی میں کتنا حصہ لیا ہے؟ قوم کے لیے کیا کیا ہے؟ عوامی بہبود اور خدمتِ اِنسانیت کے لیے کیا کیا ہے؟ وطنِ عزیز کے غیر مسلم شہریوں کی خاطر کیا کام کیا ہے؟ ان کے تحفظ اور ترقی کے لیے کون سے اِقدامات اٹھائے گئے ہیں؟ عوامی بیداری کی مہم میں کس حد تک حصہ لیا ہے؟ قوم کا شعور بیدار کرنے کی خاطر کیا قربانیاں دی ہیں؟ اِس ملک کو لوٹنے والوں کے خلاف کس حد تک جد و جہد کی ہے؟ پوری دنیا میں وطنِ عزیز کی جگ ہنسائی کرانے والے سیاست دانوں اور حکمرانوں کے خلاف عوام میں کس حد تک شعور بیدار کیا ہے؟ کہاں کہاں اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات کی خاطر قربان کیا ہے؟

خدا کرے کہ مری اَرضِ پاک پر اُترے
وہ فصلِ گل جسے اَندیشۂ زوال نہ ہو

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد فاروق رانا

تاریخ اشاعت: 2017-07-25


Your Comments