Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ 
فتویٰ آن لائن - اگر فرض نماز میں‌ سورۃ فاتحہ کے بعد تلاوت کرنا بھول گیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

اگر فرض نماز میں‌ سورۃ فاتحہ کے بعد تلاوت کرنا بھول گیا تو نماز کا کیا حکم ہے؟

موضوع: نماز  |  فجر

سوال پوچھنے والے کا نام: شیخ محمد نورالزمان       مقام: بنگلورو

سوال نمبر 4307:
سوال اگر فرض نماز کی دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھ کر رکوع میں چلا جائے تو کیا سجدہ سہو سے نماز ہو جائیگی؟

جواب:

فقہائے احناف کے نزدیک فرائض کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد قرآنِ مجید کی کوئی سورت پڑھنا واجب ہے۔ چنانچہ عبدالرحمان الجزیری لکھتے ہیں:

ضم سورة إلى الفاتحة في جميع ركعات النفل والوتر والأوليين من الفرض ويكفي في أداء الواجب أقصر سورة أو ما يماثلها كثلاث آيات قصار أو آية طويلة والآيات القصار الثلاث.

نفل اور وتر کی ہر (رکعت میں) اور فرض نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کسی اور سورۃ کا پڑھنا (واجب ہے)۔ چھوٹی سے چھوٹی سورہ یا اس کے برابر قرآنِ مجید کی آیتیں جیسے تین چھوٹی آیتیں یا ایک بڑی آیت پڑھ لینے سے واجب ادا ہو جاتا ہے۔

عبدالرحمان الجزيري، الفقه علیٰ مذاهب الاربعه، 1: 259، بيروت

اور اگر کوئی شخص سورہ فاتحہ کے بعد والی قراءت پہلی دو رکعتوں میں عمداً چھوڑ دے تو گناہگار ہوگا اور اگر بھول کر چھوڑ دے تو سجدہ سہو کرے گا۔ اس لیے اگر فرائض میں سورہ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت نہیں ملائی تو سجدہ سہو کرنا ضروری ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

تاریخ اشاعت: 2017-07-29


Your Comments