Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
  Three Day Dawra Uloom-ul-Hadith by Shaykh-ul-Islam Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri 
فتویٰ آن لائن - قیام کا ظاہری طریقہ اور باطنی ادب کیا ہے؟

قیام کا ظاہری طریقہ اور باطنی ادب کیا ہے؟

موضوع: عبادات  |  زکوۃ

سوال نمبر 426:
قیام کا ظاہری طریقہ اور باطنی ادب کیا ہے؟

جواب:

قیام میں مرد ناف کے نیچے دایاں ہاتھ بائیں کے اوپر اس طرح رکھے کہ دائیں ہتھیلی بائیں ہتھیلی کی پشت پرہو اور چھوٹی انگلی اور انگوٹھے کا حلقہ بنا کر کلائی پکڑے اور باقی تین انگلیاں کلائی پر رکھے۔

حضرت سہل بن سعد ص کا قول ہے:

کَانَ النَّاسُ یُؤْمَرُوْنَ أَنْ يَضَعَ الرُّجُلُ الْيَدَ الْیُمْنَی عَلَی ذِرَاعِہِ الْیُسْرَی فِي الصَّلَاۃِ.

 بخاری، الصحيح، کتاب صفة الصلة، باب وضع اليمني علي اليسری، 1:259، رقم: 707

’’لوگوں سے کہا جاتا تھا کہ آدمی نماز میں اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی بائیں کلائی پر رکھے۔‘‘

جبکہ عورت قیام میں سینہ کے اوپر داہنے ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھے گی۔

باطنی ادب

قیام کا باطنی ادب مجاہدہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:

وَقُومُواْ لِلّهِ قَانِتِينَ.

 البقرة، 2: 238

’’اور اﷲ کے حضور سراپا ادب و نیاز بن کر قیام کیا کروo‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا رؤئے سخن اپنے بندوں کی طرف ہے کہ میرے حضور سراپا عجز و نیاز اور پیکر ادب بن کر اس غلام کی طرح کھڑے ہو جاؤ جو اپنے آقا کے روبرو ادب و نیاز سے اپنی نگاہیں اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔

پس قیام کا باطنی ادب بندے کو یہ سکھاتا ہے کہ غلامی اور اطاعت صرف ایک ہی ذات کی ہونی چاہیے جو علیم و خبیر اور غالب و کار ساز ہے۔ غیر کی غلامی سے تن اور من کی دنیا اجڑ کر رہ جاتی ہے جب بندہ ایک عظیم و برتر شہنشاہ اور کائنات کے خالق و مالک کا تصور اپنے اوپر حاوی کر لیتا ہے تو اس کے دل میں وہ رقت اور سوز و گداز پیدا ہو جاتا ہے کہ آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں، خود سپردگی کی کیفیت دل میں گھر کر لیتی ہے۔ دنیا کا ہر خوف دل سے نکل جاتا ہے اور دھیان میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کے سوا اور کسی تصور کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments