بیوی کے طلاق مانگنے پر شوہر نے کہا ’ٹھیک ہے، الگ ہو جاؤ‘ تو کیا طلاق ہوگئی؟


سوال نمبر:4198
السلام علیکم! اگر ایک لڑکے لڑکی نے خفیہ نکاح کیا ہے، بیوی بیوی خاوند سے زبردستی طلاق لیتی ہے اور خاوند اس کی ضد کی وجہ سے اسے کہتا ہے کہ ٹھیک ہے الگ ہو جاؤ تو کیا یہ طلاق ہوگی یا خلع؟ اگر وہ دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو کیا ان کا رجوع جائز ہے؟

  • سائل: نعمانمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 28 اپریل 2017ء

زمرہ: طلاق  |  طلاق کنایہ

جواب:

اپنے سوال میں آپ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ خفیہ نکاح کی نوعیت کیا تھی؟ اگر تو دو عاقل و بالغ مسلمان مرد گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے عوض ایجاب و قبول ہوا ہے تو نکاح منعقد ہو گیا۔ اس کے بعد لڑکی نے طلاق طلب کی تو لڑکے نے کہا: ٹھیک ہے الگ ہو جاؤ‘ اس سے طلاقِ بائن واقع ہو گئی اور نکاح ختم ہوگیا۔ اگر وہ دوبارہ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں تو دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔ نئے نکاح کی صورت میں شوہر کے پاس صرف دو طلاق کا حق باقی ہوگا۔ اس کی مزید وضا حت کے لیے ملاحظہ کیجیے: کنایہ الفاظ سے دی ہوئی طلاق کب واقع ہوتی ہے؟

دوسری صورت میں اگر نکاح گواہوں کی موجودگی میں نہیں ہوا، یا عقدِ نکاح کی شرائط و ارکان میں سے کوئی شرط یا رکن مفقود ہو تو نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا۔ اس صورت میں طلاق دینا فضول ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری