کیا جوتے پہن کر نماز ادا کرنا جائز ہے؟


سوال نمبر:4140

سوال: السلام علیکم! میں آپ سے دو سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ پہلا کیا جوتے پہن کر مسجد میں نماز ادا کر سکتے ہیں؟ اور دوسرا مسجد میں صفوں کو کم کرکے جوتے رکھنے کے لئے جگہ بنائی جا سکتی ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

  • سائل: محمد طاہر یامینمقام: ملتان
  • تاریخ اشاعت: 13 فروری 2017ء

زمرہ: نماز

جواب:

یہ ایک بہت اہم اور حساس مسئلہ ہے لہٰذا پہلے ہم چند احادیث ملاحظہ کرتے ہیں پھر آخر میں دور حاضر کے تقاضے کی مناسبت سے تطبیق کریں گے تاکہ ہر کوئی اصل مسئلہ کو بآسانی سمجھ سکے۔ احادیث مبارکہ میں ہے:

عَنْ يَعْلَی بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رضی الله عنه عَنْ أَبِيهِ قَالَ، قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ.

(هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ)

حضرت یعلی بن شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے اپنے والد ماجد حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہود کی مخالفت کرو کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے۔

(امام حاکم کے نزدیک، اس حدیث مبارکہ کی اسناد صحیح ہیں لیکن اس کو بخاری ومسلم نے روایت نہیں کیا)

  1. أبي داود، السنن، 1: 176، رقم: 652، دار الفکر
  2. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1: 391، رقم: 956، بيروت: دار الکتب العلمية
  3. ابن حبان، الصحيح، 5: 561، رقم: 2186، بيروت: مؤسسة الرسالة

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نعلین مبارک پہن کر نماز ادا کرتے تھے:

عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ رضی الله عنه قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه أَکَانَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ نَعَمْ.

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔

  1. بخاري، الصحيح، 1: 151، رقم: 379، بيروت، لبنان: دار ابن کثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، 1: 391، رقم: 555، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي
  3. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 100، رقم: 11995، مصر: مؤسسة قرطبة

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نعلین مبارک کے بغیر بھی نماز پڑھی ہے لہٰذا یہ بھی ہمارے لئے سنت ہے:

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ فَلَمَّا قَضَی رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم صَلَاتَهُ قَالَ مَا حَمَلَکُمْ عَلَی إِلْقَاءِ نِعَالِکُمْ قَالُوا رَأَيْنَاکَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْکَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم إِنَّ جِبْرِيلَ عليه السلام أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا أَوْ قَالَ أَذًی وَقَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ فَإِنْ رَأَی فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًی فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا جبکہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز پڑھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نعلین مبارک اتار دیئے اور انہیں بائیں جانب رکھ دیا۔ جب لوگوں نے یہ بات دیکھی تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل کرلی تو فرمایا کہ تم نے کس وجہ سے اپنے جوتے اتارے؟ عرض گزار ہوئے کہ ہم نے دیکھا کہ آپ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے اپنے نعلین مبارک اتار دیئے لہٰذا ہم نے بھی اپنے جوتے اتار دیئے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان میں نجاست لگی ہوئی ہے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی دیکھے تو اسے رگڑ دے اور ان کے ساتھ نماز پڑھ لے۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 3: 20، رقم: 11169
  2. أبي داود، السنن، 1: 175، رقم: 650
  3. دارمي، السنن، 1: 370، رقم: 1378، بيروت: دار الکتاب العربي
  4. ابن خزيمة، الصحيح، 1: 384، رقم: 786، بيروت: المکتب الإسلامي

ایک روایت میں ہے:

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ رضی الله عنه عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا.

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ ان کے والد ماجد ان کے جد امجد نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ننگے پاؤں اور نعلین مبارک پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا۔

  1. أبي داود، السنن، 1: 176، رقم: 653
  2. ابن ماجه، السنن، 1: 330، رقم: 1038، بيروت: دار الفکر

جب جوتے اتار کر رکھے تو دوسروں کو تکلیف نہ دے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنْ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا لِيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو جوتے اتار کر ان کے ذریعے دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے لہٰذا انہیں اپنے دونوں پاؤں کے درمیان رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے۔

  1. أبي داود، السنن،1 : 176، رقم: 655
  2. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1: 391، رقم: 957، بيروت: دار الکتب العلمية
  3. ابن حبان، الصحيح، 5: 557، رقم: 2182، بيروت: مؤسسة الرسالة

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ جوتے پہن کر مسجد میں نماز ادا کی جا سکتی ہے لیکن آج کل مسجدوں میں چمکدار ٹائلیں اور بہترین قسم کے قالین بچھے ہوئے ہوتے ہیں جن پر جوتے پہن کر چلنے سے صفائی رکھنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ لہٰذا آج کل مسجد میں جوتے پہن کر نماز پڑھنا مناسب نہیں ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے گھر کو بھی باقی عمارتوں سے زیادہ صاف اور ستھرا رکھا جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک اتار کر نماز پڑھنے کی شاید حکمت بھی یہی تھی کہ زمانے گزر جانے کے بعد وقت کی ضرورت کے مطابق کوئی تبدیلی بھی آئے تو عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنت سے محروم نہ رہیں۔

مسجد میں جوتے رکھنا:

دوسرا سوال کہ مسجد میں جوتے رکھنے کے لئے جگہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ فقہاء کرام فرماتے ہیں:

لأهل المحلة تحويل باب المسجد... لهم تحويل المسجد إلی مکان آخر إن ترکوه بحيث لايصلی فيه ولھم بيع مسجد عتيق لم يعرف بانيه وصرف ثمنه في مسجد آخر.

محلے دار مسجد کا دروازہ بدل سکتے ہیں۔۔۔ اہل محلہ مسجد کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ بدل سکتے ہیں۔ اگر اسے اس حال میں چھوڑ دیں کہ اس میں نماز نہیں پڑھی جاتی۔ ان کو یہ بھی اختیار ہے پرانی مسجد بیچ دیں جس کے بانی کا اتہ پتہ نہیں۔ اور اس کی قیمت دوسری مسجد پر خرچ کر لیں۔

ابن عابدين شامي، رد المحتار، 4: 357، بيروت: دار الفکر للطباعة والنشر

حوض أو مسجد خرب وتفرق الناس عنه فللقاضي أن یصرف أوقافه إلی مسجد آخر ولو خرب أحد المسجدين في قرية واحدة فللقاضي صرف خشبة إلی عمارة المسجد الآخر.

حوض یا مسجد ویران ہو جائیں اور لوگ اِدھر اُدھر بکھر جائیں تو قاضی (عدالت) کو اجازت ہے اس کے اوقاف (زمین، جاگیر، باغات، دکانیں، مکانات اور رقوم) کسی اور مسجد پر صرف کرے۔ اگر ایک بستی (محلہ) میں، دو مسجدوں میں سے ایک ویران ہو جائے تو قاضی (عدالت) کو اختیار ہے کہ اس کی لکڑی (وغیرہ) دوسری مسجد کی تعمیر میں خرچ کرے۔

  1. زين الدين ابن نجيم، البحر الرائق، 5: 273، بيروت: دار المعرفة
  2. عبد الرحمن بن محمد، مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر، 2: 595، بيروت، لبنان: دار الکتب العلمية

مزید فرماتے ہیں:

بخلاف ما إذا کان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملک فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فھو کسرداب مسجد بيت المقدس.

اگر مسجد کا تہہ خانہ یا اوپر (چھت) مقاصد مسجد کے لئے وقف ہے تو یہ جائز ہے کہ اس میں کسی کی ملکیت نہیں بلکہ اس میں مقاصد مسجد کی تکمیل ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مسجد اقصیٰ کے پانی ذخیرہ کرنے کے سرد خانے۔

  1. ابن نجيم، البحر الرائق، 5: 271
  2. ابن عابدين شامي، ردالمحتار، 4: 357

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ مسجد کی عمارت میں ہر ایسا تغیر وتبدل جس سے مقاصد مسجد میں خلل نہ آئے اور اس سے نمازیوں کے لئے سہولت پیدا ہو تو وہ جائز ہے۔ ایسے مسائل ضرورت وحالات کے پیش نظر ہوتے ہیں، مقصد دین اسلام کی ترویج واشاعت کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔ لہٰذا جوتے رکھنے کے لئے جگہ بنانا نمازیوں کی ضرورت ہے اس لئے مسجد کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے صفوں کی جگہ تھوڑی کم کر کے جوتے رکھنے کے لئے ڈبے (boxes) وغیرہ بنانے میں کوئی حرج نہیں ہے تاکہ نمازیوں کے لئے آسانی پیدا ہو سکے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری