پانچ بیٹوں اور تین بیٹیوں میں وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی؟

سوال نمبر:4138
السلام علیکم! میرے تایا مرحوم نے دس مرلے زمین میرے والد صاحب کے نام کروائی اور دس مرلے میرے نام رجسٹر کرائے۔ ابو نے اس میں سے 2.5 مرلے چچا اور 2.5 مرلے تایا کے نام کروائے اور باقی 5 مرلے ان کے نام ہی رجسٹر رہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان والد صاحب کے 5 مرلے میں سے ہم 5 بھائیوں اور 3 بہنوں میں کس طرح‌ تقسیم ہوں‌ گے؟ ہر ایک کا کیا حصہ بنے گا؟

  • سائل: محمد خورشیدمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 28 فروری 2017ء

زمرہ: تقسیمِ وراثت

جواب:

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ.

اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی وراثت) کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے۔

النساء، 4: 11

درج بالا آیت نے تقسیم کا اصولی فیصلہ یہ دیا ہے کہ ترکہ میں لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کا ایک حصہ ہے۔ مسئلہ مسؤلہ میں اگر ورثاء میں صرف پانچ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں تو کل قابلِ تقسیم پانچ مرلہ زمین کے برابر برابر تیرہ (13) حصے بنا کر ہر لڑکے کو دو دو حصے اور ہر لڑکی کو ایک حصہ دیا جائے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟